تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 372
تاریخ احمدیت بھارت 341 جلد اوّل بہشتی مقبرہ ( میں ) کو نس تعمیری کام ہورہا ہے۔اور بہتر ہوگا کہ دیوار اور کمرے کا جائے وقوع ایک سرسری نقشہ کی صورت میں تیار کر کے بھجوائیں۔اس تعمیر کی وجہ سے آپ کا وقار عمل تو خوب ہورہا ہوگا“۔ย قادیان کی ایک رپورٹ میں یہ ذکر تھا کہ بڑا باغ بھی۔۔۔۔(غیر مسلموں) کے قبضہ میں ہے اس سے فکر ہوا۔کیونکہ بڑا باغ حضرت اماں جان والا پرانا باغ کہلاتا ہے۔اور وہ اس رقبہ میں شامل ہے جس پر ہم اپنا قبضہ سمجھتے رہے ہیں اور قادیان میں حکام کو جو نقشہ دیا گیا تھا۔اس میں بڑا باغ ہمارے قبضہ میں دکھایا گیا تھا۔علاوہ ازیں یہ باغ حلقہ مسجد مبارک اور بہشتی مقبرہ کے درمیان واقع ہے اور اگر اس پر دوسروں کا قبضہ ہو تو بہشتی مقبرہ اور ہمارے آدمیوں کی آمد و رفت دونوں خطرہ میں پڑ سکتے ہیں آپ اس کے متعلق بواپسی جواب دیں۔اور اگر وہ خدانخواستہ قبضہ سے نکل چکا ہو تو اس کے متعلق پروٹسٹ کر کے دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔(19) آپ نے کاشت کے واسطے بیلوں کی جوڑی وغیرہ کے لئے لکھا ہے۔آپ زمین کا انتظام کریں پھر یہ انتظام بھی انشاء اللہ ہو جائے گا۔مگر زمین ایسی حاصل کرنی چاہیے جو ہماری مقبوضہ آبادی سے ملتی ہوتا کہ آنے جانے اور نگرانی میں آسانی رہے اور امن شکنی کا خطرہ بھی نہ ہو۔دارالانوار میں میرا کنواں اور ساتھ والی میاں رشید احمد کی زمین اور دوسرے ملحقہ قطعات اس غرض کے لئے اچھے ہیں۔چاہ جھلا روالا بھی اچھا ہے مگر اس میں اتنا نقص ہے کہ اس کے کھیت ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ مخلوط ہیں۔اراضی تکیہ مرزا کمال الدین مناسب نہیں کیونکہ وہ بالکل ایک طرف نظروں سے اوجھل ہے اور ایسی جگہ میں فساد کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔آپ زمین کے زیادہ اچھا ہونے کا خیال نہ کریں بلکہ آنے جانے کی سہولت اور انتظامی سہولت کے پہلو کو مقدم رکھیں“۔(20) مولوی عبد الرحمن صاحب نے لکھا کہ قادیان میں کوئی ایندھن کا ٹال نہیں ہے۔یہ کام آپ آسانی سے قادیان میں کرا سکتے ہیں کسی احمدی کو کہہ دیا جائے کہ وہ محمد دین حجام والی زمین متصل مکان بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی میں ٹال کھول دے یا احمد یہ چوک کے کسی حصہ میں کھول دیا جائے۔(21) میں نے آپ کے حسب منشاء قادیان میں احمدی دوستوں کی خیریت کا اعلان الفضل میں کرا دیا تھا۔آئندہ بھی گاہے گا ہے کروا دیا جائے گا۔