تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 369 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 369

جلد اوّل 338 تاریخ احمدیت بھارت دوسرے مقامات مقدسہ میں دعاؤں اور ذکر الہی کے انوار و برکات سے معمور تھے۔اور ہر درویش حفاظت مرکز سے متعلق ہر چھوٹی اور بڑی مفوضہ ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے مجسم اطاعت و ایثار بنا ہوا تھا۔محصوریت کے یہ ایام انتہائی درجہ گھٹن اور بے بسی کے روح فرسا ماحول میں گھیرے ہوئے تھے مگر یہ قدوسی پوری بشاشت ایمان اور جذبہ اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض بجالاتے اور اس سلسلے میں کسی کام کو خواہ وہ بظاہر کتنا ہی معمولی یا حقیر کیوں نہ ہو خادمانہ شان کے ساتھ انجام تک پہنچانے کو اپنے لئے بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے۔چنانچہ جیسا کہ مرزا محمد حیات صاحب سابق نگران درویشان ( حال سیالکوٹ ) کی غیر مطبوعہ ڈائری سے معلوم ہوتا ہے درویشوں نے ان ابتدائی ایام میں دن رات کام کیا۔مثلاً در ویش لنگر خانہ میں سامان پہنچاتے ، مہاجر احمدیوں کے گھر سے اسباب بحفاظت جمع کرتے ، بہشتی مقبرہ میں معماری کا کام کرتے ، بیرونی محلوں سے جمع شدہ کتابوں کو مرتب اور مجتہد کرتے اور اپنے حلقہ دور بیشی کے ہراہم مقام پر نہایت با قاعدگی اور ذمہ داری کے ساتھ پہرہ دیتے تھے۔درویشوں کی روزانہ ایک معین وقت پر اجتماعی حاضری بھی لی جاتی تھی۔احمدی حلقہ کے چاروں طرف غیر مسلم آباد ہو چکے تھے اور حکومت اور عوام دونوں طرف سے خطرات ہی خطرات نظر آتے تھے ان حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔22 نومبر (1947ء) کو حفاظتی نقطہ نگاہ سے دار الشیوخ والی گلی کا دروازہ اور بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کے مکان کے سامنے والی گلی اور دروازہ اینٹوں سے اور احمد یہ چوک سے مسجد مبارک جانے کا راستہ لوہے کا گیٹ لگا کر بند کر دیا گیا اور تمام آمد و رفت دفتر تحریک جدید ، مرزا محمد اسمعیل صاحب کے مکان اور میاں عبد الرحیم صاحب دیانت سوڈا واٹر کی دکان سے ہونے لگی۔23 نومبر (1947ء) کو نو (9) درویش ہندؤوں اور سکھوں کی آبادی میں سے ہوتے ہوئے اسٹیشن تک گئے اور لنگر کے لئے ایک سو بیس من کوئلہ لاد کر لائے۔27 نومبر (1947ء) کو۔۔۔۔( شر پسندوں) کا پروگرام جلوس نکالنے کا تھا اس لئے تمام درویشوں کو ان کے مکانات میں ہی متعین کر دیا گیا۔اسی اثنا میں ایک درویش با با جلال الدین صاحب اپنے مکان سے باہر نکلے تو ملٹری کے ایک سپاہی نے انہیں دو تین تھپڑ رسید کئے اور کہا کہ باہر کیوں نکلے ہو؟ شام چار بجے کے قریب یہ جلوس چوک میں پہنچا۔اس موقعہ پر انتہائی اشتعال انگیز نظمیں پڑھی