تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 370
تاریخ احمدیت بھارت 339 جلد اول گئیں۔ایک۔۔۔۔( شرپسند ) نے ہاتھ میں برہنہ تلوار لے کر کہا کہ یہ اسی تلوار کا اثر ہے کہ یہاں پاکستان نہیں بن سکا۔یکم دسمبر (1947ء) کو بیمار اور معذور درویشوں کے سوا سب نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد کی تعمیل میں روزہ رکھا۔5 دسمبر (1947) کو مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے نماز فجر کے بعد بہشتی مقبرہ کی چاردیواری کے شمال مشرقی کو نہ پر ایک کمرے کی بنیاد رکھی جو درویشوں کے تعاون سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔9 دسمبر (1947ء) کو درویشوں نے دفتر امور عامہ کے جنوبی جانب اجتماعی وقار عمل کیا۔اس جگہ دو تین ہزار مسلمان پناہ گزین ہو گئے تھے جن کے فضلے سے بہت سڑاند پھیل گئی تھی۔درویشوں نے اپنے ہاتھ سے اس جگہ صفائی کی اور گڑھوں کو مٹی سے پر کر دیا۔23 دسمبر (1947ء) کو مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے مولوی برکات احمد صاحب راجیکی ناظر امور عامہ، ملک صلاح الدین صاحب ایم اے فضل الہی خان صاحب اور 9 دیگر درویشوں نے نور ہسپتال کے سامنے بیت البرکات کی دیوار پر مندرجہ ذیل فقرات لکھے ہوئے دیکھے" مسلمانوں سے بچ کر رہو' قادیان کے ہندو! قادیان سے خبر دار ہو اور مسلمان کا ناس کرو“ 13 دسمبر (1947ء) کو کیپٹن شیر ولی صاحب نگران حفاظت قادیان کی تحریک پر بہشتی مقبرہ کے ارد گرد دیوار کی تعمیر کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا۔درویشوں نے اس کچی دیوار کومکمل کرنے میں از حد جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔یہ دیوار کئی برس تک قائم رہی بعد ازاں اس جگہ پختہ دیوار تعمیر کر لی گئی۔اس طرح بہشتی مقبرہ اور اس سے متصل بڑا باغ بھی (جو سلسلہ کی عظیم تاریخی روایات کا حامل ہے) غیروں کی دست برد سے محفوظ ہو گیا۔(17)