تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 366 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 366

تاریخ احمدیت بھارت 335 ایک حملہ کی سازش اور خدائی رعب جلد اول ہر مذہب اور ہر علاقے میں کچھ نہ کچھ شر پسند عناصر ہوتے ہیں۔جو فتنہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ان عناصر سے قادیان اور گردونواح کے دیہات بھی خالی نہ تھے۔بعض شر پسند عناصر تو اس حد تک دشمنی اور عناد میں بڑھے ہوئے تھے کہ انکی یہ کوشش تھی کہ ان 313 افراد کو بھی قادیان سے نکال کر محلہ احمدیہ اور مقدس مقامات پر قبضہ کر لیا جائے۔آخری قافلہ جو کہ 16 نومبر 1947ء کو روانہ ہوا تھا۔اس کی روانگی پر ابھی گیارہ دن ہی گزرے تھے کہ مورخہ 27 نومبر 1947ء کو شر پسند عناصر نے عوام الناس کے جذبات کو اس حد تک انگیخت کیا کہ ہزاروں افراد محلہ احمدیہ کی طرف جلوس کی شکل میں آگئے۔شام چار بجے کے قریب یہ جلوس احمد یہ چوک پہنچا۔وہاں سرکاری حکام و فوج اور پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔اس پر شر پسند عناصر نے احمد یہ چوک میں کھڑے ہو کر اشتعال انگیز تقریریں کرنی شروع کر دیں۔اور ایسے اشعار اور نظمیں پڑھی گئیں جس سے عوام الناس مزید مشتعل ہو گئے۔انہوں نے تلوار میں لہرا لہرا کر پبلک کو آگے بڑھنے کی تحریک کی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے ان کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔اور صرف ان کے دلوں میں ایک ایسا خوف اور رعب پیدا کیا کہ وہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکے۔اور وہاں کچھ دیر تقریریں کرنے کے بعد آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔قادیان کے گردونواح کے غیر احمدی مسلمانوں کی محلہ احمد یہ میں آمد جب تقسیم ملک کا اعلان ہوا اور فسادات شروع ہو گئے قادیان کے قرب و جوار سے غیر احمدی مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اپنی املاک کو خیر باد کہہ کر جان بچانے کے لئے قادیان آگئی۔ان کی تعداد بعض اوقات پچاس ہزار سے بھی تجاوز کر جاتی اور جماعت احمد یہ حتی الامکان ان کو پر امن اور محفوظ طریق سے پاکستان پہنچانے کے انتظامات کر دیتی۔ان کی اکثریت اتنی خوف زدہ تھی کہ وہ مزید قادیان میں ٹھہر کر انتظار کرنانہیں چاہتی تھی اور خود ہی پیدل پاکستان کی سرحد کی طرف روانہ ہو جاتی۔عینی شاہدین کا بیان ہے کہ ان میں سے دس فیصد پاکستان پہنچتے 90 فیصد راستے میں ہی موت کے گھاٹ اتار دئے جاتے۔