تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 365
جلد اوّل 334 تاریخ احمدیت بھارت میں جمع ہو گئے۔ان غیر مسلم مہاجرین کو بسانے اور آباد کرنے میں ان درویشان کرام نے ہر طرح سے تعاون کیا۔اور ان کو یہ احساس دلوایا کہ حکومتوں کے معاملات اپنی جگہ ہیں کیونکہ آپ لوگ بھی ہماری طرح مظلوم ہیں آپ سے ہماری کوئی دشمنی اور رنجش نہیں ہے۔آپ کو بسانے اور آباد کرنے میں ہماری جو مدد مطلوب ہو ہم اس کے لئے حاضر ہیں۔اور درویشان کرام کا یہ نمونہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ ذیل تعلیمات کے عین مطابق تھا۔حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:۔”ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندوکو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کوکوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کو چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم سے نہیں ہے“۔(13) نیز ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں کہ:۔میں تمام مسلمانوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں۔جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول“۔(14) درویشان کرام نے اپنے پاس صرف 198 مکانات محلہ احمدیہ میں رکھے جبکہ ان کی تعداد 31 تھی۔اس طرح دیکھا جائے تو درویشان کرام سکونت کے لحاظ سے محلہ احمد یہ تک محدود ہو گئے۔اور اپنے ہندو اور سکھ مہاجر بھائیوں کی مظلومیت کو دیکھتے ہوئے درویشان کرام نے شہر کا اکثر حصہ ان کے حوالے کر دیا۔اور نہ صرف مکانات ان کو دئے بلکہ گھر یلو اسباب اور سامان چار پائیاں اور برتن حتی کہ اناج بھی ان کو فراہم کیا۔اسی وجہ سے بہت جلد ان سے تعلقات بہتر ہو گئے۔اور ان کی اکثریت اچھے ہمسایہ اور شہریوں کی طرح احمدی احباب کے ساتھ گزر بسر کرنے لگی۔313