تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 13 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 13

جلد اوّل 12 تاریخ احمدیت بھارت دوسری مرتبہ آپ نے 1900ء میں قادیان سے ہجرت کا ارادہ فرمایا۔اس کی وجہ آپ کے جدی بھائیوں کی طرف سے ایذا رسانیاں تھیں آپ کے پاس دور دراز سے مہمان آتے انہیں طرح طرح سے تنگ کیا جاتا۔یہ مخالفت و عداوت اس وقت اپنے انتہاء کو پہنچ گئی جب انہوں نے مسجد مبارک جانے والے راستے میں دیوار بنا کر راستہ روک دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں ہر طرح سے سمجھانے کی کوششیں کیں مگر ان پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔آخر آپ نے جماعت کے افراد کا ایک وفد ڈ پٹی کمشنر گورداسپور کے پاس بھجوایا۔جو کہ قادیان متصل موضع ہر چووال میں آئے ہوئے تھے۔تاکہ وہ دیوار کو منہدم کروائیں۔ڈپٹی کمشنر کا رویہ بھی انتہائی تلخ اور متعصبانہ تھا۔اس سارے واقعہ کا ذکر چوہدری حاکم علی صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ اس طرح بیان فرما یا:۔حضرت صاحب نے ہمارے ساتھ اور بعض مہمانوں کو ملا دیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جاؤ اور اس سے جا کر ساری حالت بیان کرو اور کہو کہ ہم لوگ دور دراز سے دین کی خاطر یہاں آتے ہیں اور یہ ایک ایسا فعل کیا جا رہا ہے جس سے ہم کو بہت تکلیف ہوگی کیونکہ مسجد کا راستہ بند ہو جائیگا۔ان دنوں میں قادیان کے قریب ایک گاؤں میں کوئی سخت واردات ہو گئی تھی اور ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس سب وہاں آئے ہوئے تھے۔چنانچہ ہم لوگ وہاں گئے اور ذرا دور یکے ٹھہرا کر آگے بڑھے۔ڈپٹی کمشنر اس وقت باہر میدان میں کپتان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں اور اپنا حال بیان کرنا شروع کیا۔مگر ڈپٹی کمشنر نے نہایت غصہ کے لہجہ میں کہا کہ تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو۔میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے۔اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں اب جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائے گا کہ کس طرح ایسی جماعت بنایا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم ناچار وہاں سے بھی ناکام واپس آگئے اور حضرت صاحب کو سارا ماجرا سنایا۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ان دنوں میں مخالفت کا سخت زور تھا اور انگریز حکام بھی جماعت پر بہت بدظن تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ کوئی سازش کے لئے سیاسی جماعت بن رہی ہے۔اور بٹالہ میں ان دنوں پولیس کے افسر بھی سخت معاند و مخالف تھے اور طرح طرح سے تکلیف دیتے رہتے تھے اور قادیان کے اندر بھی مرزا امام الدین اور مرزا نظام