تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 14
تاریخ احمدیت بھارت 13 جلد اوّل الدین وغیرہ اور ان کی انگیخت سے قادیان کے ہندو اور سکھ اور غیر احمدی سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے اور قادیان میں احمدیوں کو سخت ذلت اور تکلیف سے رہنا پڑتا تھا اور ان دنوں میں قادیان میں احمدیوں کی تعداد بھی معمولی تھی اور احمدی سوائے حضرت کے خاندان کے قریباً سب ایسے تھے جو باہر سے دین کی خاطر ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے یا مہمان ہوتے تھے۔حضرت صاحب نے یہ حالات دیکھے اور جماعت کی تکلیف کا مشاہدہ کیا تو جماعت کے آدمیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور کہا کہ اب یہاں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہم نے تو کام کرنا ہے۔یہاں نہیں تو کہیں اور سہی۔اور ہجرت بھی انبیاء کی سنت ہے۔پس میرا ارادہ ہے کہ کہیں باہر چلے جائیں۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس پر پہلے حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں۔وہاں میرے مکانات حاضر ہیں اور کسی طرح کی تکلیف نہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب نے سیالکوٹ کی دعوت دی، شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا لاہور میرے پاس تشریف لے چلیں۔میرے دل میں بھی بار بار اٹھتا تھا کہ میں اپنا مکان پیش کر دوں مگر میں شرم سے رک جاتا تھا آخر میں نے بھی کہا کہ حضور میرے گاؤں میں تشریف لے چلیں۔وہ سالم گاؤں ہمارا ہے اور کسی کا دخل نہیں اور اپنے مکان موجود ہیں اور وہ ایک ایسی جگہ ہے کہ حکام کا بھی کم فضل ہے۔اور زمیندارہ رنگ میں گویا حکومت بھی اپنی ہے، حضرت صاحب نے پوچھا وہاں ضروریات مل جاتی ہیں میں نے کہا۔رسد وغیرہ سب گھر کی اپنی کافی ہوتی ہے۔اور ویسے وہاں سے ایک قصبہ تھوڑے فاصلہ پر ہے جہاں سے ہر قسم کی ضروریات مل سکتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا ! اچھا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔جہاں اللہ لے جائے وہیں جائیں گے“۔(12) بعد ازاں اس دیوار کے انہدام کے لئے عدالت کی طرف رجوع کیا گیا۔ایک سال آٹھ ماہ کے بعد مورخہ 12 اگست 1901 ء عدالت نے دیوار گرانے کا فیصلہ صادر کیا۔یہ خوشخبری جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے فرمایا :۔گویا ایک سال آٹھ ماہ کا رمضان تھا جس کی آج عید ہوئی (13) چنانچہ مخالفانہ حالات بدل جانے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری مرتبہ بھی ہجرت کا ارادہ ملتوی فرما دیا۔