تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 306 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 306

تاریخ احمدیت بھارت 275 جلد اوّل رہے۔سلسلہ کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔نماز با جماعت اور خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ہر قسم کے چندوں اور خصوصاً تحریک جدید میں ہر سال اضافے کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے۔اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اپنے فرائض کو نہایت احسن طور پر نبھاتے رہے۔اب میں ان کے خاندان کا تعارف کرواتا ہوں۔ان کے والد حضرت مرزا محمد شفیع صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ محاسب صدر انجمن احمد یہ تھے۔میرے بچپن سے پارٹیشن تک مجھے ان کا ہمیشہ دیکھنا یاد ہے۔بہت ہی مستعد کا رکن تھے اور ہمیشہ اعلیٰ درجہ کی صلاحیتوں کا نمونہ دکھاتے ہوئے محاسبہ کا کام کیا ہے۔ان کا مزید تعارف یہ ہے کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خسر تھے۔یعنی حضرت مرزا محمد شفیع صاحب ، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خسر تھے اور انہی کی بیٹی سے آگے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ساری نسل جاری ہوئی ہے۔جو دوسری بیگم تھیں ان کو اچھی اماں کہا کرتے تھے ان سے کوئی اولا د نہیں تھی لیکن وہ ان کی اولاد سے بھی ماں کی طرح محبت کرتی تھیں بلکہ بعض ان کے بچے انہی کے پاس پلے ہیں۔حضرت چھوٹی آپا یعنی ام متین کے یہ حقیقی ماموں تھے، مرزا احمد شفیع صاحب۔مرزا احمد شفیع صاحب کی بیوہ امتہ الرحمن صاحبہ ربوہ میں ہوتی ہیں جن کے ساتھ ان کی بیٹی امته الباسط (امۃ القیوم ساتھ رہتی ہیں۔حضور نے 28 مئی کے خطبہ میں تصحیح فرما دی تھی ) رہتی ہیں۔ان کی ایک بیٹی لندن میں ہیں جن کے بچے آگے پھر خدمت دین کی توفیق پارہے ہیں۔فضل اور شیلا دو نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں جنہوں نے جماعت کی علمی خدمات میں بہت بھر پور حصہ لیا ہے اور جو بھی ریسرچ کے کام میں ان کے سپر د کرتا ہوں بڑی تند ہی سے ادا کرتے ہیں۔انگلستان کی جماعت میں یہ دو نام کافی مشہور ہیں۔ان کے بیٹے مرزا مسیح احمد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہاں جرمنی میں ہیں اور کافی لمبے عرصہ سے صاحب فراش ہیں اور بڑی ہمت سے بیماری کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ان کی بیگم بھی ان کی بہت خدمت کر رہی ہیں۔آپ سب کو میں ان سب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔مکرم ملک حمید علی صاحب شہید ایک شہادت ملک حمید علی صاحب کی بھی مذکور ہے۔یہ تاریخ میں درج ہے مگر اس کی تفاصیل موجود نہیں ہیں۔اس خطبہ کے سلسلہ کا ایک یہ بھی فائدہ پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا کہ اب جو بھی ان کے عزیز بنیں گے وہ