تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 304 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 304

تاریخ احمدیت بھارت 273 جلد اوّل والدہ تھیں اور ان کا نام سلمیٰ تھا۔پندرہ برس کی عمر میں ان کی شادی سید صادق علی صاحب سے ہوئی تھی۔قادیان پیدل آنے کے متعلق لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے بہار میں احمدیت کا پیغام سنا تو بہار سے پیدل چل کر قادیان آئے اور ان کے پاؤں سوج گئے تھے۔غریب خاندان تھا، سفر خرچ نہیں تھا۔یہ مختصر سی بات انہوں نے لکھی ہے۔جو رجسٹر کا حوالہ میں نے دیا ہے جس کی تفصیل انشاء اللہ جلسہ سالانہ پر میں سناؤں گا۔وہ بہت ہی عظیم الشان واقعہ ہے حیرت انگیز قربانی ہے۔بہار سے چل کر پیدل ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ننگے پاؤں ، زخمی پاؤں جو ہر روز سوج جایا کرتے تھے زخموں سے،اس کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام سنا تھا صرف آنکھوں دیکھنا تھا اس حالت میں یہ قادیان آئے تھے۔پس ان کی شہادت ایک عظیم واقعہ ہے جس کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جیسے بہادر پہلے تھے ویسے ہی شہادت کے دوران بھی بہادر ہی ثابت ہوئے۔مکرم پیر سلطان عالم صاحب شہید ایک شہادت مکرم سلطان عالم صاحب کی تاریخ میں درج ہے۔عزیز سلطان عالم صاحب 26/ نومبر 1922ء کو پیدا ہوئے۔1938ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے درجہ اول میں میٹرک پاس کیا۔اس عرصہ میں تحریک جدید بورڈنگ ہاؤس میں داخل رہے۔اس چھوٹی سی عمر میں ہی باقاعدہ تہجد گزار تھے۔بعد ازاں گجرات سے امتیاز کے ساتھ ایف اے پاس کیا اور سی ایم اے کے مقابلہ کے امتحان میں کامیاب ہو کر ملازم ہو گئے۔1942ء میں آپ کو مہمان خانے میں معاون ناظر ضیافت کے طور پر تعینات کیا گیا۔یہ چونکہ وقف کر کے آگئے تھے اور قادیان میں معاون ناظر ضیافت کے طور پر ان کی تقرری ہوئی تھی جو انہوں نے بڑی جانفشانی سے ادا کی۔19 ستمبر 1947ء کی ایک چٹھی میں جو 25 ستمبر کو گولیکی پہنچی ، مرحوم نے یہ لکھا: حضور کا حکم ہے کہ عورتوں اور بچوں کو بھیج دو اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ہم تو حضور کے حکم کے مطابق خون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔واقعہ شہادت : 4/اکتوبر 1947ء کو کرفیو اٹھنے کے بعد جب بعض بیرونی محلوں میں رہنے والے احمدی اپنے مکانوں کی دیکھ بھال کے لئے باہر جانے لگے تو بڑے بازار کے اختتام پر جو ریتی چھلہ سے ملتا