تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 303 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 303

جلد اوّل 272 تاریخ احمدیت بھارت سید محبوب عالم صاحب بہاری شہید ایک اور بزرگ سید محبوب عالم صاحب بہاری کی شہادت کا واقعہ بھی یوں درج ہے کہ 19/ ستمبر 1947ء کو سید محبوب عالم صاحب بہاری جن کا خاندان اس وقت انگلستان میں اور ہر جگہ بھی گیا لیکن انگلستان میں خصوصیت کے ساتھ ان کی اولا دبس رہی ہے۔سید صاحب ایک نیک اور بہت بے نفس بزرگ تھے۔19 ستمبر 1947 ء کی صبح کو نماز کے بعد ریلوے لائن کے ساتھ سیر کے لئے گئے۔اب بہادری دیکھیں باوجود اس کے کہ حالات بے انتہا خراب تھے ، گھر میں ٹھہرنے کا حکم تھا مگر بزدلی کے ساتھ نہیں ٹھہرے۔جو سیر کا دستور تھا جاری رکھا اور ریلوے لائن کے ساتھ باقاعدہ صبح سیر پہ جایا کرتے تھے۔لیکن ڈی۔پی۔سکول (ڈی۔اے۔وی۔اسکول۔ناقل ) قادیان کے قریب موضع رام پور کے بالمقابل کسی نے انہیں گولی کا نشانہ بنایا۔شروع میں تو انہیں لا پتہ تصور کیا جاتا رہا۔لیکن وہ جو احمدی والنٹیئر ز کے دستے جایا کرتے تھے۔اس مکان میں ان کو موجود نہیں دیکھا تھا۔اس مکان میں انکو نہ پا کر یہی سمجھتے رہے کہ لا پتہ ہیں۔شاید کسی اور کے مکان میں چلے گئے ہوں۔مگر اس واقعہ کے تین دن کے بعد ایک مسلمان دیہاتی نے جو پناہ گزین کے طور پر باہر سے آیا ہوا تھا سید صاحب کے داما دسید صادق حسین صاحب کو بتایا کہ میں نے اس حلیہ کے ایک مسلمان کی لاش جس کے گلے میں نیلا کر نہ تھا۔اور یہ نیلا کرتا انہوں نے ہی پہنا ہوا تھا، ریلوے لائن کے قریب پڑی ہوئی دیکھی تھی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔پس ان کی نعش کا تین دن بعد پتہ چلا اور ان کو دفنانے کا بھی کوئی انتظام نہ ہوسکا۔شمسہ سفیر لنڈن سے بیان کرتی ہیں کہ میرے نانا جان سید محبوب عالم صاحب اور ان کے بھائی سید محمود عالم صاحب جب انہوں نے احمدیت کا پیغام سنا تو بہار سے پیدل چل کر قادیان آئے تھے۔یہ جو واقعہ ہے اس کا میں نے دوبارہ انگلستان سے پتہ کروایا ہے۔کیونکہ جہاں تک جماعت کی تاریخ محفوظ ہے میں نے اصل رجسٹر پڑھے ہیں۔جن میں ابتدائی احمدیوں کے،صحابہ کے بڑے عظیم الشان واقعات درج ہیں۔کس طرح انہوں نے غیر معمولی قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیان آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔مجھے یہ خیال تھا کہ غالباً سید محبوب عالم صاحب بھی انہیں میں سے ہیں۔چنانچہ انگلستان سے جب تصدیق کروائی گئی تو شمسہ سفیر صاحبہ نے یہ تصدیق بھیجی ہے کہ اولاد میں صرف ایک ہی بیٹی تھی جو میری