تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 300 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 300

تاریخ احمدیت بھارت 269 جلد اول شہدائے احمدیت 1947ء کا ذکر خیر سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع” کے الفاظ میں تقسیم ملک 1947 ء کے دوران قادیان اور اس کے گردونواح میں جن احمدی احباب نے جام شہادت نوش کیا ان شہداء کی یاد تازہ کرنے کی خاطر حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” نے ان کا ذکر اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع فرماتے ہیں:۔جمعدار محمد اشرف صاحب شہید پہلا ذکر جمعدار محمد اشرف صاحب شہید کا ہے جن کی تاریخ شہادت 2 ستمبر 1947ء ہے۔مجھے افسوس ہے ہماری تاریخ میں ان لوگوں کے متعلق تفصیلات اکٹھی نہ کی گئیں لیکن اب جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے نتیجہ میں بہت سے شہداء کے پسماندگان خود وہ اطلاعیں بھجوا رہے ہیں جو ہماری تاریخ میں اس وقت محفوظ نہیں ہیں۔وہ لکھ رہے ہیں کہ ہم ان کے بچے کتنے تھے ، کہاں کہاں گئے، اللہ تعالیٰ نے ان سے کیا سلوک کیا، دشمنوں سے کیا سلوک کیا وغیرہ وغیرہ۔غرضیکہ اس مبارک سلسلہ کے نتیجہ میں ایک اور سلسلہ معلومات کا اکٹھا ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری تاریخ اور زیادہ سنورتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔جمعدار محمد اشرف صاحب کے متعلق تاریخ احمدیت میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے روز نامچے کے حوالے سے یہ درج ہے کہ 2 /ستمبر 1947ء کو مسلمانوں کے گاؤں سٹھیالی پر جہاں خود حفاظتی کے خیال سے علاقے کے اور کئی مسلمان دیہات بھی جمع تھے ، بہت بڑا گاؤں تھا سٹھیالی ، مسلمانوں کا اور وہاں اردگرد کے دیہات کے مسلمان بھی پناہ کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے وہاں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے حملے کا آغاز ہوا۔اور اس حملہ کے دوران جمعدار محمد اشرف صاحب ان مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سٹھیالی بھجوائے گئے تھے۔وہاں برین گن کے فائر سے شہید ہوئے۔جمعدار صاحب مرحوم احمد یہ کمپنی 15/8 پنجاب رجمنٹ سے جنوری 1947 ء میں فارغ ہوئے تھے اور قادیان تشریف لے آئے تھے۔25 اگست 1947ء کو آپ نے حفاظت مرکز کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔26 اگست کو جناب کیپٹن شیر ولی صاحب کے حکم سے صوبیدار عبد المنان صاحب دہلوی ، عبدالسلام صاحب سیالکوٹی ، حوالدار میجر محمد یوسف صاحب گجراتی محمد اقبال صاحب اور عبد القادر صاحب کھارے والے، غلام رسول