تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 301
جلد اوّل 270 تاریخ احمدیت بھارت صاحب سیالکوٹی، فضل احمد صاحب اور عبدالغفار صاحب ان کے ہمراہ یہ سٹھیالی پہنچے جہاں۔۔۔۔مفسدہ پردازوں) نے رائفل ہٹین گن، برین گن اور گرینیڈ کا بے دریغ استعمال کیا۔جمعدارمحمد اشرف صاحب اور صوبیدار عبد المنان صاحب دہلوی اور محمود احمد صاحب عارف تینوں بڑی بہادری اور جرات سے دفاع کر رہے تھے کہ یکا یک برین گن کا برسٹ جمعدار محمد اشرف صاحب کے ماتھے پر لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔میاں علم الدین صاحب شہید دوسری شہادت جس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے وہ میاں علم الدین صاحب کی ہے۔تاریخ شہادت 6 ستمبر 1947 ء۔آپ کی پیدائش غالباً 1898ء کی ہے۔منگل باغبان نز دقادیان میں کچھ عرصہ سکونت پذیر رہے۔پھر 1932ء میں قادیان منتقل ہو گئے۔اولاً حلقہ مسجد مبارک اور پھر حلقہ مسجد فضل میں سکونت اختیار کی۔آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ہر سال اس سلسلہ میں گرمیوں کے موسم میں دریائے بیاس کے پاس اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو ضرور ملنے جایا کرتے تھے۔آپ کی تبلیغ کی بدولت ان میں سے بعض کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔آپ مولانا جلال الدین صاحب قمر کے والد تھے۔واقعہ شہادت یوں بیان ہوا ہے کہ قادیان پر جب پولیس اور فوج کی مدد سے جنہوں نے حملے شروع کئے تو فوج قادیان پر کرفیو لگا دیتی تھی۔اور اہل قادیان کو قانونی زنجیروں میں جکڑ کر غیر مسلم جتھوں کو کھلا چھوڑ دیتی تھی کہ وہ من مانی کریں۔لیکن اس کے باوجود غیر مسلم جتھوں کو احمدیوں کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔کچھ تو ویسے ہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ رعب کے ذریعے ہماری مدد کی جائے گی۔اصل وجہ تو یہی ہے، جو وعدہ ہم نے بارہا پورا ہوتے دیکھا ہے۔لیکن اس مدد دینے کے تعلق میں غیروں کا جھوٹ بھی شامل ہو جایا کرتا تھا جو ان کے خلاف کام کرتا تھا۔اس قدر کثرت سے انہوں نے قادیان کے اسلحے سے متعلق مشہور کر رکھا تھا کہ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) باوجود جتھوں کے، باوجود اس کے کہ فوج اور پولیس کی اعانت ان کو حاصل ہوتی تھی، جب بھی لڑتے تھے اور ذرا ان کو خطرہ ہو کہ قادیان سے اسلحہ نکل کے ان پر جوابی حملہ ہونے والا ہے تو ڈر کر بھاگ جایا کرتے تھے۔مگر اس دوران جب کہ لڑائی ہو رہی تھی۔اس وقت ان کو یقینا موقع مل جاتا تھا احمدیوں کو شہید کرنے کا اور بعض غیر احمدی مسلمانوں کو شہید کرنے کا۔