تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 11
جلد اوّل 10 تاریخ احمدیت بھارت امیدوں پر پانی پھرتے دیکھا تو مخالفت وعداوت کو انتہاء تک پہنچادیا۔ان کی طرف سے آپ کو اشتعال انگیز اشتہارات و رسائل بھجوائے جانے لگے۔آپ کے قتل کی سازشیں ہونے لگیں۔آپ نہیں چاہتے تھے کہ قادیان کا امن وسکون برباد ہو۔اور ساکنین قادیان کسی مصیبت میں مبتلاء ہو جائیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان سے ہجرت کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔” ناظرین پر واضح رہے کہ ہمارا ہر گز یہ طریق نہیں کہ مناظرات و مجادلات میں یا اپنی تالیفات میں کسی نوع کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لئے پسند رکھیں یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق میں یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں، کیونکہ یہ طریق علاوہ خلاف تہذیب ہونے کے ان لوگوں کے لئے مضر بھی ہے جو مخالفت رائے کی حالت میں فریق ثانی کی کتاب کو دیکھنا چاہتے ہیں، وجہ یہ کہ جب کسی کتاب کو دیکھتے ہی دل کو رنج پہنچ جائے تو پھر برہمی بیعت کی وجہ سے کس کا جی چاہتا ہے کہ ایسی دل آزار کتاب پر نظر بھی ڈالے لیکن ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ ہمیں اس رسالہ میں ایک ایسے یاوہ گو کی تحریر کا جواب لکھنا پڑا جس نے اپنے افتراء سے سوالات ہی ایسے کئے تھے جن کا پورا پورا اور واقعی سچا بھی وہی جواب تھا جو ہم نے لکھا ہے۔ہر چند ہم نے حتی الوسع رفق اور نرمی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور وہی الفاظ لکھے جو واقعی صحیح اور اپنے محل پر چسپاں ہیں۔لیکن ہماری کانشنس اور حفظ مراتب کے جوش نے اس بات سے بھی ہم کو منع کیا کہ ہم سفلہ مزاج اور گندی طبیعت کے لوگوں کے لئے وہ آداب استعمال کریں جو ایک شریف اور مہذب جنٹلمین کے لئے واجب ہیں۔ان آریوں نے ہم سے کس قسم کی تہذیب کا برتاؤ کیا؟ یہ ہم ابھی بیان کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ شریف آریہ ان حرکات بیجا کو بالکل روا نہیں رکھتے ہوں گے جو ہماری نسبت اپنے اقوال پر مخش سے بعض دل چلے آریوں نے اپنے وحشیانہ جوش سے ظاہر کئے ہیں۔انہوں نے میری نسبت ایسے گندے اشتہار چھاپے ہیں۔ایسے پر دشنام گمنام خط بھیجے ہیں۔ایسی غائبانہ گندیاں باتیں کہیں ہیں کہ مجھے ہرگز امید نہیں کہ کوئی نیک ذات آریہ اس صلاح اور مشورہ میں داخل ہوگا۔اور پھران نیک بختوں نے اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ بار بار خطوط اور اشتہاروں کے ذریعہ سے مجھے قتل کرنے کی بھی دھمکی دی ہے لیکھ رام پشاوری نے جس قدر گندے اور بد بو سے بھرے ہوئے ہماری طرف خط لکھے وہ سب ہمارے پاس موجود ہیں۔اور گمنام خطوط جو جان سے ماردینے کے بارے میں کسی پر جوش آریہ کی طرف سے پہنچے گو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کس آریہ کی طرف سے ہیں مگر یہ ہم جانتے ہیں کہ شورہ پشتوں کے گروہ