تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 10 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 10

تاریخ احمدیت بھارت جلد اوّل پڑا تھا۔اس خاندان کے مکانات مسمار کر دیئے گئے تھے۔مسجدیں منہدم کر دی گئی تھیں۔کتب خانے جلا کر خاکستر کر دیئے گئے تھے۔ہر طرف ویرانی اور بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔ایک (اسلام پور) قادیان وہ تھا جس کی بنیاد مرزا ہادی بیگ صاحب نے 1530ء میں رکھی۔ایک قادیان یہ تھا جس کے کھنڈرات پر ایک نیا قادیان تعمیر کرنے کی ابتداء حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم و مغفور ( والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے کی۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قادیان سے ہجرت کا سلسلہ یہاں ہی ختم نہیں ہوا۔بلکہ بیگووال سے واپسی کے بعد بھی بعض ایسے مواقع آئے جب حضرت مسیح موعود نے قادیان سے ہجرت کا ارادہ ظاہر فرمایا۔لیکن پھر اسے کسی الہی تفہیم کے تحت ملتوی فرما دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارادہ ہجرت قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1882ء میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ماموریت کا اعلان فرمایا۔پھر 1885ء میں مجدد ہونے کا اعلان فرمایا بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مثیل مسیح ابن مریم بنایا اور خلعت مہدویت سے نوازا لیکن براہو، ان ابلیسی طاقتوں کا۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کرنی شروع کر دیں تبلیغ اسلام کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کی بھر پور کوششیں کیں۔آپ کی زندگی میں دو ایسے مواقع آئے جب آپ نے قادیان سے ہجرت کا ارادہ ظاہر فرمایا ایک تو وہ موقعہ تھا جب کہ 1887ء میں قادیان کے بعض آریہ سماج والوں نے آپ کی شدید مخالفت شروع کر دی۔اور اس کی وجہ براہین احمدیہ اور سرمہ چشم آریہ کتابوں کی تصنیف و اشاعت تھی۔مخالفین اسلام ”اسلام“ کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے انتظار میں تھے۔اور توقع رکھتے تھے کہ چند سالوں میں ہی وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ تسلیم کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے اس لئے وہ ” شُدھ ہو کر واپس اپنے دھرم میں آجائیں۔ایسے امید افزاء ماحول میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے براہین احمدیہ اور سرمہ چشم آریہ تصنیف فرمائی جس سے دشمنان اسلام نے اپنی