تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 276 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 276

تاریخ احمدیت بھارت 247 جلد اوّل حساب کا ریکارڈ ضرور ان کے کارکنوں سمیت اور شیخ نور الحق پہلے کنوائے میں بھجوا دیئے جائیں۔اس کے بغیر سلسلہ کا سخت نقصان ہے، ان چیزوں اور ان آدمیوں کے نہ بھیجوانے سے سلسلہ کا سخت نقصان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ معاف کرے۔اس کنوائے میں تو نہیں جو بڑا کنوائے پرسوں تک آئیگا اس میں مطلوبہ کلرک اور مبلغ اور تیں دیہاتی مبلغ بھی آجانے چاہئیں تا کہ جماعتوں کو فوراً منظم کیا جاسکے۔خدا کرے ہمارا قادیان سلامت رہے اور ہم اس کی جگہوں میں خدا کی حمد گاتے پھریں۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔والسلام خدا کا عاجز بندہ اور اس کے دین کا خادم۔تمہارا دعا گو مرز امحمود احمد (27) حفاظت شعائر اللہ کے بارے میں عہدیداران جماعت کی اہم میٹنگ تاریخ احمدیت میں درج ہے کہ ماہ اکتوبر 1947ء کے دوسرے ہفتہ کی ابتداء میں حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود نے قادیان کے مرکزی عہدیداروں سے بذریعہ مکتوب یہ مشورہ طلب فرمایا کہ قادیان کی حفاظت کی خاطر مستقبل میں کیا صورت اختیار کی جائے۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں صاحبزادہ مرز اعزیز احمد صاحب امیر مقامی قادیان نے جماعت کے چند مخصوص اور سر بر آوردہ احباب کی میٹنگ بلائی۔اور مورخہ 11 /اکتوبر 1947ء کو اس میٹنگ کی روداد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں بھیجوا دی جس میں لکھا:۔ان احباب کا خیال ہے کہ یہ لوگ نہ تو کالج ہمیں واپس کریں گے اور نہ مکانات کو اب خالی کریں گے۔اس لئے سوائے مقامات مقدسہ یعنی بہشتی مقبرہ مسجد اقصیٰ مسجد مبارک اور دار مسیح کے کہیں اور اپنے آدمی نہیں رکھے جاسکتے۔اور ان مقامات کی حفاظت کے لئے دوصد آدمی کافی ہوں گے۔اور حضور کی تجویز کے مطابق یکصد آدمی عملہ حفاظت سے نکل آئیں گے اور 50 قادیان کے احباب سے اور 50 باہر سے آئیں گے۔یہاں کے۔۔۔۔(شر پسندوں) اور۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا رویہ ہمارے مقامات مقدسہ کے