تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 263 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 263

جلد اول 234 تاریخ احمدیت بھارت ایم۔اے (ایم۔ایل۔اے) اور سلسلہ احمدیہ کی نظارت امور عامہ کے انچارج سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کوسری گوبند پور تھانہ کے علاقے کے۔۔۔(غیر مسلموں) کو قتل کرنے کے الزام میں زیر دفعہ 302 تعزیرات ہند گرفتار کر لیا گیا ہے۔گرفتاری کے وقت مسلح پولیس اور فوج کے علاوہ اس علاقے کے۔۔۔(مفسدہ پرداز ) برچھیوں ، بھالوں اور گنڈاسوں سے مسلح تھے، ہمراہ تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی مقام پردھاوا بولا جارہا ہے۔قادیان کے معزز اور مقتدر ارکان اور پناہ گزینوں کی تلاشیاں بھی لی گئیں۔قادیان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب مسلمان جمع ہیں اور اگر ان کی حفاظت کے لئے مسلمان فوجی دستے متعین ہو جائیں تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑنے کی بجائے اپنے دیہات ہی میں آباد ہونے کو ترجیح دیں گے۔“ 7 19 ستمبر 1947ء کی اشاعت میں خبر شائع ہوئی کہ:۔-7 قادیان کے اکابر کی گرفتاری جماعت احمدیہ کے اکابر میں سے چوہدری فتح محمد سیال ایم۔اے (ایم۔ایل۔اے) اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کو مشرقی پنجاب کی حکومت نے زیر دفعہ 302۔۔۔(غیر مسلموں) کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ان دونوں حضرات کی عمر ساٹھ ساٹھ سال ہوگی اور اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور معزز آدمی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قادیان کے مسلمانوں نے اب تک ثبات و استقلال کا جو ثبوت دیا ہے اور نواحی علاقے کی تباہی کے باوجود جس صبر و سکون سے ڈٹے رہے ہیں، وہ مشرقی پنجاب کے حکام کے نزدیک بہت تکلیف دہ ہے یہی وجہ ہے کہ اب انہوں نے قادیان میں تلاشیاں اور گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔انکا منشاء یہ ہے کہ قادیان میں جو ایک لاکھ مسلمان اس وقت جمع ہیں وہ بھی پریشان ہو کر بھاگ کھڑے ہوں اور خونخوار غنڈے ہرطرف سے ان پر حملہ کر کے انہیں ختم کر دیں۔پاکستان کے وزیر اعظم کا فرض ہے کہ قادیان کے مسئلہ کی طرف بطور خاص حکومت ہندوستان کی توجہ مبذول کرائیں۔“ -8 اخبار انقلاب کے 25 ستمبر 1947 ء کے شمارہ میں درج ذیل اشاعت ہوئی:۔