تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 239 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 239

جلد اوّل 210 تاریخ احمدیت بھارت میں بہت ہی عزت دار آدمی تھا۔۔۔۔تھانیدار اسے قید کر کے قادیان لے آیا جہاں لا کر تھانے میں اس کی مونچھیں کھینچیں۔پھر اسے سپاہیوں کی حراست میں ڈیری والہ واپس کیا۔اس کے منہ پر کالک اور گندی کیچڑ ملی۔اور سارے علاقہ میں اسے پھرایا۔چوہڑے اس کے منہ پر جوتے مارتے اور تھوکتے تھے۔اسی طرح کئی معزز مسلمانوں کو ذلیل وخوار کیا جاتا ہے۔قادیان کے چند معزز شہری جن میں چوہدری فتح محمد سیال ایم۔ایل۔اے اور زین العابدین سید ولی اللہ شاہ ناظر امور عامه قادیان بھی شامل ہیں گرفتار کئے جاچکے ہیں اور گورداسپور جیل میں ان کے ساتھ بھی بہت برا سلوک کیا جا رہا ہے۔اس سے قبل قادیان کا ایک معزز شہری چوہدری محمد شریف باجوہ بھی گورداسپور جیل میں ہے جس کے ساتھ نہایت بہیمانہ اور انسانیت سوز ظلم کیا جاتا ہے۔کبھی اس کے بدن پر خنجر مارے جاتے ہیں کبھی اس کے منہ میں پیشاب ڈالا جاتا ہے اور کبھی یک لخت اسے ٹھنڈے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے اور۔۔۔پولیس کے ظالم سپاہی اور افسر اس سے پوچھتے ہیں بتاؤ قادیان میں اسلحہ وغیرہ کہاں ہے“ جب جرمنی کے وحشی درندوں کے سے مظالم کے بعد چوہدری محمد شریف لاعلمی کا اظہار کرتا اور کہتا ہے کہ قادیان میں کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں۔وہاں صرف چند لائیسنس والی بندوقیں ہیں جن کا حکومت کو علم ہے تو۔۔۔سپاہی بے تحاشہ طیش میں آکر وحشیانہ انداز میں اسے زدوکوب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔چوہدری محمد شریف باجوہ کے خلاف الزام یہ ہے کہ وہ قادیان کا رہنے والا اور مسلمان ہے۔۔۔۔۔پولیس کے نازی ظلم وستم سے تنگ آکر اس مرد مجاہد نے کئی دفعہ مطالبہ کیا ہے کہ میں جانتا ہوں میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں۔اس لئے تم مجھے اس جرم کی سزا میں ایک ہی دفعہ شوٹ کر دو اور میرا قصہ پاک کرو لیکن اس کے اس صبر و استقلال کو دیکھ دیکھ کر۔۔۔۔۔پولیس اور بھی وحشیانہ سزاؤں پر اتر آئی ہے۔اگر گورداسپور جیل کے تمام واقعات کو منظر عام پر لایا جائے تو سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی کانپ جائے۔مراد پور کے مسلمان جو قادیان آرہے تھے ڈلہ کے۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے لوٹ لئے۔جب تھانیدار کے پاس رپورٹ کی گئی تو اس نے ان بیچاروں کی اور بھی بے عزتی کی۔مسلمانوں کا تمام سامان ڈلہ۔۔۔میں مقفل کر دیا گیا۔چند مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ایک زخمی عورت نے وہیں چھپ کر اپنی جان بچائی اور کھیتوں میں چھپ چھپا کر قادیان پہنچی۔صاف شہادتوں کے باوجود قادیان کی پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔