تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 240 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 240

تاریخ احمدیت بھارت 211 جلد اول تلونڈی جھنگلاں کے مسلمان بھی جب قادیان آئے تو ان کا بھی سب سامان اور مویشی ان سے زبردستی چھین لئے گئے۔18 ستمبر کو قادیان کی۔۔۔(غیر مسلم ) ملٹری نے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کو اسلحہ دے کر موضع کھارا میں بھیجا اور مسلمانوں کو زبردستی وہاں سے نکلوا دیا اور کوئی چیز نہیں لانے دی۔ان کا آٹا وغیرہ بھی راستے میں چھین لیا اور ان کے مکان تباہ و برباد کر دیئے۔13 ستمبر کو چند۔۔۔۔(غیر مسلم ) تحصیلدار کا ایک رقعہ لے کر قادیان کے تھانیدار کے پاس آئے۔جس میں یہ لکھا تھا کہ انہیں موضع منگل میں بسایا جائے جو قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔لیکن اس میں مسلمان آباد تھے۔19 ستمبر کو۔۔۔۔تھانیدار۔۔۔پولیس کو لے کر منگل پہنچا اور مسلمانوں سے کہا کہ منگل کو فوراً خالی کر دو جو نہیں کرے گا اسے شوٹ کر دیا جائے گا۔مجبوراً مسلمان اپنا سب سامان چھوڑ کر آگئے۔اسی طرح کڑی افغاناں نزد بیاس کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔اور ان بچاروں کو صرف پندرہ منٹ کا نوٹس دیا گیا کہ گاؤں کو خالی کر دو۔جب قافلہ قادیان کی طرف روانہ ہوا تو پیچھے سے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ایک زبر دست جتھے نے حملہ کر کے ان کا سامان لوٹ لیا اور کئی مسلمان شہید ہوئے۔۔۔۔۔پولیس اور۔۔۔۔(غیر مسلم ) ملٹری نے قادیان کو زیر کرنے کے لئے اس کے تمام ملحقہ دیہات زبر دستی خالی کروائے اور اس طرح مشرقی پنجاب اور ہندوستان کی حکومتوں کے منہ پر اپنے ہاتھوں سے سیاہی ملی۔جو یہ کہتی تھی کہ مشرقی پنجاب میں سے کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔لیکن جب ان حکومتوں کو توجہ دلائی گئی کہ دیکھو کیا ہورہا ہے تو وہ مندر کی مورتی کی طرح ٹس سے مس نہ ہوئیں۔اس وقت قادیان میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین موجود ہیں جو۔۔۔(غیر مسلم ) ملٹری اور۔۔۔پولیس کے رحم وکرم پر پڑا ہے۔ہمارے نامہ نگار نے ان پناہ گزینوں سے مختلف قسم کے سوالات دریافت کئے اور خصوصیت کے ساتھ ایک بات کے متعلق تمام مسلمان حیران و ششدر ہیں۔اور وہ یہ کہ جب مسٹر لیاقت علی خان اور پنڈت جواہر لال نہرو کے درمیان یہ بات طے پاچکی ہے کہ مغربی پنجاب کے غیر مسلموں کی حفاظت۔۔۔۔غیر مسلم ) ملٹری کرے گی اور مشرقی پنجاب میں مسلمان پناہ گزینوں کی حفاظت مسلمان کرے گی، تو پھر قادیان