تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 227
جلد اوّل 198 تاریخ احمدیت بھارت رکھوں گا۔میں نے کہا کتنی دیر میں کہنے لگے پندرہ دن میں پندرہ دن میں ریلیں بھی چلا دیں گے۔تاریں بھی کھل جائیں گی۔ڈاکخانے بھی کھل جائیں گے۔اور ٹیلیفون بھی جاری ہو جائے گا۔آپ چند دن صبر کریں میں نے کہا بہت اچھا ہم صبر کر لیتے ہیں۔لیکن جب پندرہ دن ختم ہوئے تو آخری حملہ قادیان پر ہوا۔جس میں سب لوگوں کو نکال دیا گیا۔پھر ان حملوں میں بچے مارے گئے اور ایسے ایسے ظالمانہ طور پر قتل کئے گئے کہ بچوں کے پیٹوں میں نیزے مار مار کے انہیں قتل کیا گیا۔ہم نے اس وقت تصویر میں لی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ بچوں کے ناک کاٹے ہوئے ہیں۔کان چرے ہوئے ہیں۔پیٹ چرا ہوا ہے۔انتڑیاں باہر نکلی ہوئی ہیں اور وہ تڑپ رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے چھ چھ مہینہ کے اور سال سال کے تھے جن پر یہ ظلم کیا گیا۔(9) سیدنا حضرت المصلح الموعود کے خطبہ جعہ میں شہدائے قادیان کا درد انگیز ذکر یہاں سیدنا لمصلح الموعود کے ایک خطبہ جمعہ (فرمودہ 10 اکتوبر 1947ء کا ایک اقتباس دیا جانا ضروری ہے جس میں شہدائے قادیان سے ہونے والے بہیمانہ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔حضور نے فرمایا: آج ایک عرصہ کے بعد قادیان سے جو خطوط موصول ہوئے ہیں ان سے اور ان آنے والوں سے جو پچھلے ایک دو دن میں یہاں آئے ہیں، وہ حالات معلوم ہوئے ہیں جو گزشتہ چھ دنوں میں گورنمنٹ کے مقامی نمائندوں نے قادیان میں پیدا کر دیئے تھے۔اور جن کی مثال شاید پرانے زمانہ کی وحشی اقوام میں بھی نہیں ملتی۔ہمارے دوسو سے زائد احمدی مارے گئے ہیں۔اور ان کی لاشیں بھی ہمارے حوالے نہیں کی گئیں۔بلکہ گڑھے کھود کر ان کو خود ہی دفن کر دیا گیا ہے۔جنرل تھمایا جو ایسٹ پنجاب گورنمنٹ میں جالندھر ڈویژن کے افسر ہیں، وہ بعض احمدیوں کے ساتھ ایک سکیم کے ماتحت جب قادیان گئے تو انہوں نے کہا ہماری رپورٹیں تو یہ ہیں کہ تیس کے قریب احمدی مارے گئے ہیں۔اور جب انہوں نے افسروں سے پوچھا کہ کتنے احمدی مارے گئے ہیں تو انہوں نے بھی کہا۔ٹھیک ہے میں احمدی مارے گئے ہیں۔اس وقت ہمارے لوکل نمائندوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں تھیں احمدی مارے گئے ہیں۔ہمیں ایک گڑھے کا علم ہے جس میں