تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 223
جلد اوّل 194 تاریخ احمدیت بھارت سامان یا بے قیمت چیزوں کے سوا کچھ باقی نہیں۔مرکزی حصہ پر جو حملہ ہوا اس میں ایک شاندار واقعہ ہوا ہے جو قرونِ اولیٰ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔جب حملہ کرتے ہوئے پولیس اور۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) شہر کے اندر گھس آئے اور شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر خالی کرانا چاہا۔اور وہ لوگ مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ گلی کے پار ایک گھر میں چالیس عورتیں جمع تھیں۔وہ وہیں رہ گئیں ہیں۔بعض افسران کو نکلوانے کے لئے گلی کے سرے پر جو مکان تھا وہاں پہنچے۔اور ان کے نکالنے کے لئے دونو جوانوں کو بھیجا۔یہ نوجوان جس وقت گلی پار کرنے لگے تو سامنے کی چھتوں سے پولیس نے ان پر بے تحاشا گولیاں چلانی شروع کیں۔اور وہ لوگ واپس گھر میں آنے پر مجبور ہو گئے۔تب لکڑی کے تختے منگوا کر گلی کے مشرقی اور مغربی مکانوں کی دیواروں پر رکھ کر عورتوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔جو نو جوان اس کام کے لئے گئے ان میں ایک غلام محمد صاحب ولد مستری غلام قادر صاحب سیالکوٹ تھے۔اور دوسرے عبدالحق نام قادیان کے تھے ، جو احمدیت کی طرف مائل تو تھے مگر ابھی جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔یہ دونوں نوجوان برستی ہوئی گولیوں میں سے تختے پر سے کودتے ہوئے اس مکان میں چلے گئے۔جہاں چالیس عورتیں محصور تھیں (7)۔انہوں نے ایک ایک عورت کو کندھے پر اٹھا کر تختے پر ڈالنا شروع کیا۔اور مشرقی مکان والوں نے انہیں کھینچ کھینچ کر اپنی طرف لانا شروع کیا۔جب وہ اپنے خیال میں سب عورتوں کو نکال چکے اور خود واپس آگئے تو معلوم ہوا کہ انتالیس عورتیں آئی ہیں۔اور ایک بڑھیا عورت جو گولیوں سے ڈر کے مارے ایک کونے میں چھپی ہوئی تھی رہ گئی ہے۔اب ارد گرد کی چھتوں پر پولیس جتھوں کا ہجوم زیادہ ہو چکا تھا۔گولیاں بارش کی طرح گر رہی تھیں۔اور بظاہر اس مکان میں واپس جانا ناممکن تھا۔مگر میاں غلام محمد صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب سیالکوٹی نے کہا، جس طرح بھی ہو میں واپس جاؤں گا اور اس عورت کو بچا کر لاؤں گا۔اور وہ برستی ہوئی گولیوں میں، جو نہ صرف درمیانی راستہ پر برسائی جا رہی تھیں بلکہ اس گھر پر بھی برس رہی تھیں جہاں احمدی کھڑے ہوئے بچاؤ کی کوشش کر رہے تھے، کو دکر اس تختے پر چڑھ گئے۔جو دونوں مکانوں کے درمیان پیپل کے طور پر رکھا گیا تھا۔جب وہ دوسرے مکان میں کو درہے تھے تو رائفل کی گولی ان کے پیٹ میں لگی اور وہ مکان کے اندر گر پڑے۔مگر اس حالت میں بھی اس بہادر نوجوان نے اپنی تکلیف کی پروانہ کی اور اس بڑھیا کو تلاش کر کے تختے پر چڑھانے کی کوشش کی۔لیکن شدید زخموں کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا