تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 222
تاریخ احمدیت بھارت 193 جلد اوّل سمجھ رہے تھے کہ ہمارے حالات کا علم مرکزی محلہ کو ہو گا۔کسی مصلحت کی وجہ سے انہوں نے ہمیں مقابلہ کرنے کا اشارہ نہیں کیا۔سات گھنٹہ کی لڑائی کے بعد جب مرکزی حملہ پر زور بڑھا تو مرکزی محلہ کی حفاظت کے لئے معین اشارہ کیا گیا۔مگر اس وقت تک بہت سے بیرونی محلوں کو پولیس اور ایک حد تک ملٹری کے حملے صاف کرواچکے تھے۔حملہ آوروں کی بہادری کا یہ حال تھا کہ سات گھنٹہ کے حملہ کے بعد جب جوابی حملہ کا بگل بجایا گیا تو پانچ منٹ کے اندر پولیس اور حملہ آور جتھے بھاگ کر میدان خالی کر گئے۔ان حملوں میں دوسو سے زیادہ آدمی مارے گئے۔لیکن ان کی لاشیں جماعت کو اٹھانے نہیں دی گئیں تا ان کی تعداد کا بھی علم نہ ہو سکے اور ان کی شناخت بھی نہ ہو سکے۔بغیر جنازہ کے، اور بغیر اسلامی احکام کی ادائیگی کے، یہ لوگ ظالم مشرقی پولیس کے ہاتھوں مختلف گڑھوں میں دبا دیئے گئے تا کہ دنیا کو اس ظلم کا اندازہ نہ ہو سکے جو اس دن قادیان میں مشرقی پنجاب کی پولیس نے کیا تھا۔مشرقی پنجاب کے بالا حکام سے جو ہمیں اطلاع ملی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی حکام نے مرکزی حکام کو صرف یہ اطلاع دی کہ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھوں نے احمدی محلوں پر حملہ کیا۔تیں آدمی۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھوں کے مارے گئے اور تیس آدمی احمدیوں کے مارے گئے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسو سے زیادہ قادیان میں احمدی مارے گئے جن میں کچھ غیر احمدی بھی شامل تھے ،جیسا کہ آگے بتایا جائے گا۔اور۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بھی تیس سے زیادہ مارے گئے کیونکہ گواس غلطی کی وجہ سے جو اوپر بیان ہو چکی ہے منظم مقابلہ نہیں کیا۔لیکن مختلف آدمی بھی حفاظتی چوکیوں پر تھے، انہوں نے اچھا مقابلہ کیا اور بہت سے حملہ آوروں کو مارا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جب باہر سے پولیس اور۔۔۔۔( مفسدہ پرداز ) حملہ کر رہے تھے۔اور ملٹری بھی ان کے ساتھ شامل تھی ( گو کہا جاتا ہے کہ ملٹری کے اکثر سپاہیوں نے ہوا میں فائر کئے ہیں ) اس وقت کچھ پولیس کے سپاہی محلوں کے اندر گھس گئے۔اور انہوں نے احمدیوں کو مجبور کیا کہ یہ کرفیو کا وقت ہے اپنے گھروں میں گھس جائیں۔چنانچہ ایک احمدی گریجوایٹ (مرزا احمد شفیع بی اے۔ناقل ) جو اپنے دروازے کے آگے کھڑا تھا، اسے پولیس مین نے کہا تم دروازے کے باہر کیوں کھڑے ہو۔جب اس نے کہا کہ یہ میرا گھر ہے، میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہوں، تو اسے شوٹ کر دیا گیا اور جب وہ تڑپ رہا تھا تو سپاہی نے سنگین سے اس پر حملہ کر دیا۔اور تڑپتے ہوئے جسم پرسنگین مار مار کر اسے ماردیا۔اس کے بعد بہت سے محلوں کو لوٹ لیا گیا اور اب ان کے اندر کسی ٹوٹے پھوٹے