تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 217 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 217

جلد اوّل 188 تاریخ احمدیت بھارت صفائی کے ساتھ اس بات کا اظہار کر دیں۔افسر مجاز نے جواب دیا کہ ”ہم ایسا ہر گز نہیں چاہتے“۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ قادیان میں رہیں۔جب اسے کہا گیا، کہ وہ کہاں رہیں۔پولیس اور ملٹری کی مدد سے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے تو سب محلوں کے احمدیوں کو زبردستی نکال دیا ہے۔اور سب اسباب لوٹ لیا ہے۔آپ ہمارے مکان خالی کرا دیں، تو ہم رہنے کے لئے تیار ہیں۔تو اس پر افسر مجاز بالکل خاموش ہو گیا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔درحقیقت وہ افسر خود تو دیانتدار ہی تھا۔لیکن وہ وہی کچھ رٹ لگا رہا تھا جو اسے اوپر سے سکھایا گیا تھا۔جب اس پر اپنے دعوی کا بود ہونا ثابت ہوگیا تو خاموشی کے سو اس نے کوئی چارہ نہ دیکھا۔شاید دل ہی دل میں وہ ان افسروں کو گالیاں دیتا ہوگا جنہوں نے اسے یہ خلاف عقل بات سکھائی تھی۔قادیان کے تازہ حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لکڑی تقریباً ختم ہے۔گندم بھی ختم ہو رہی ہے۔گورنمنٹ کی طرف سے غذا مہیا کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔اب تک ایک چھٹانک آٹا بھی گورنمنٹ نے مہیا نہیں کیا۔عورتوں اور بچوں کے نکالنے کا جو انتظام تھا۔اس میں دیدہ دانستہ روکیں ڈالی جا رہی ہیں۔بارش ہوئے کو آج نو دن ہو چکے ہیں۔بارش کے بعد قادیان سے دو قافلے آچکے ہیں۔اسی طرح قریباً روزانہ ہندوستانی یونین کے ٹرکس ، فوج یا پولیس سے متعلق قادیان آتے جاتے ہیں۔اور اس کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔چار تاریخ کو پولیس کا ایک ٹرک قادیان سے چل کر واہگہ تک آیا۔تین تاریخ کو پاکستان کے ان فوجی افسروں کے سامنے جو گورداسپور کی فوج سے قادیان جانے کی اجازت لینے گئے تھے، ایک فوجی افسر نے آکر میجر سے پوچھا کہ وہ ٹرک جو قادیان جانا تھا ،کس وقت جائے گا۔پاکستانی افسروں کی موجودگی میں اس سوال کو سن کر میجر گھبرا گیا اور اس کو اشارہ سے کہا چلا جا۔اور پھر پاکستانی افسروں سے کہا اس شخص کو غلطی لگی ہے۔قادیان کوئی ٹرک نہیں جاسکتا۔چارہی تاریخ کو پاکستان کے جوٹرک قادیان گئے تھے اور ان کو بٹالہ میں روکا گیا تھا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، کہ دو ملٹری کے ٹرک قادیان سے بٹالہ آئے۔سب سے کھلا ثبوت اس بات کے غلط ہونے کا تو یہ ہے کہ انہی تاریخوں میں، جن میں کہا جاتا ہے قادیان جانے والی سڑک خراب ہے، پرانی ملٹری قادیان سے باہر آئی ہے۔اور نئی ملٹری قادیان گئی ہے۔کیا یہ تبدیلی ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔پس یہ بہانہ بالکل غلط ہے۔اور اصل غرض صرف یہ ہے کہ قادیان کے باشندوں کو، جنہوں نے استقلال کے ساتھ مشرقی پنجاب میں رہنے کا فیصلہ کر لیا