تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 216
تاریخ احمدیت بھارت 187 جلد اوّل ہے، حقیقت میں وہ بریکار نہیں ہوگی۔وہ قربانی جو قادیان کے احمدی پیش کریں گے ، وہ پاکستان کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں کام آئے گی۔اور اگر ہندوستان یونین نے اب بھی اپنا رویہ بدل لیا تو اس کا یہ رویہ ایک پائیدار صلح کی بنیا درکھنے میں مد ہو گا۔جماعت احمد یہ کمزور ہے۔وہ ایک علمی جماعت ہے۔وہ فوجی کاموں سے ناواقف ہے۔لیکن وہ اسلام کی عزت قائم رکھنے کے لئے اپنے ناچیز خون کو پیش کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ہمارے سینکڑوں عزیز بھاگتے ہوئے نہیں، اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔اور شاید اور بھی مارے جائیں۔کم سے کم لوکل حکام کی نیت یہی معلوم ہوتی ہے کہ سب کے سب مارے جائیں۔لیکن ہم خدا تعالیٰ سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے گا، اور ہمارے دلوں کو صبر اور ایمان بخشے گا۔ہمارے مارے جانے والوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔وہ ہندوستان میں اسلام کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں کام آئیں گی۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔خاکسار مرز امحمود احمد (4) سید نا حضرت مصلح موعود کا دوسرا مضمون بعنوان ”قادیان“ پہلے مضمون کے بعد قادیان کے حالات میں تیزی سے تبدیلی آنے لگی۔جس پر حضور نے قادیان ہی کے عنوان سے درج ذیل دوسرا مضمون سپر و قلم فرمایا: ہم قادیان کے متعلق پہلے کچھ حالات لکھ چکے ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ قادیان اور مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں میں فرق ہے۔قادیان کے باشندے قادیان میں رہنا چاہتے ہیں۔لیکن مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں کے باشندوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مشرقی پنجاب میں نہ رہیں۔ہندوستان یونین کی گورنمنٹ بار بار کہہ چکی ہے کہ ہم کسی کو نکالتے نہیں۔لیکن قادیان کے واقعات اس کے اس دعوی کی کامل طور پر تردید کرتے ہیں۔حال ہی میں قادیان کے کچھ ذمہ دار افسر گورنمنٹ افسروں سے ملے اور باتوں باتوں میں ان سے کہا، کہ آپ لوگ اپنی پالیسی ہم پر واضح کر دیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم قادیان چھوڑ دیں ،تو پھر