تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 204
تاریخ احمدیت بھارت 175 جلد اول 17 - اخبار الفضل نے سیکرٹری انصار المسلمین کے حوالہ سے اس کنوائے کی حسب ذیل خبر شائع کی:۔جمعرات کو ایک کنوائے قادیان کے مسلم پناہ گزینوں کو نکالنے کے لئے روانہ ہوا۔یہ کنوائے 33 رٹڑکوں پر مشتمل تھا۔دس فوجی ٹرک فوجیوں کے بال بچوں کو نکالنے کے لئے 5 فوجی ٹرک 18 سول ٹرک عام مسلم پناہ گزینوں کو نکالنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔یہ سب ٹرک مغربی پنجاب کے غیر مسلم پناہ گزینوں کو لے کر گئے تھے۔جب یہ کنوائے بٹالہ پہنچا تو اسے روک لیا گیا اور سول ٹرک پناہ گزینوں کے کیمپ میں بھیج دیئے گئے۔چند ایک ٹرکوں نے قادیان جانے کے لئے اصرار کیا انہیں کہا گیا کہ گورداسپور جا کر اجازت لے لو۔چنانچہ یہ ٹرک گورداسپور پہنچے لیکن حکام نے یہ کہ کر قادیان جانے سے روک دیا کہ قادیان کی سڑک خراب ہے۔چنانچہ یہ ٹرک بٹالہ واپس آگئے اور وہاں سے مسلم پناہ گزینوں کو سوار کر لیا۔ابھی یہ ٹرک کیمپ سے باہر نکلے ہی تھے کہ ان پر گولیوں کی بارش ہونی شروع ہوئی۔بٹالہ پولیس اسٹیشن کے قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ دشمنوں نے سڑک روک رکھی ہے اور باقاعدہ محاذ بنا رکھا ہے۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد سامنے سے گولیوں کی بوچھاڑ ہونی شروع ہوئی۔سات پناہ گزین جاں بحق اور متعدد مجروح ہوئے۔اس جتھے سے بچ بچا کر جب یہ ٹرک واہگہ پہنچے تو مشرقی پنجاب کی متعینہ فوجی پکٹ نے انہیں کئی گھنٹے روکے رکھا۔ایک اطلاع سے مظہر ہے کہ فوج نے اسکارٹ سے ہتھیار رکھوالئے کیمپ میں گولیاں تقریبا ایک گھنٹہ تک چلتی رہیں۔ایک اور اطلاع کے مطابق ان ٹرکوں کے بعد 18 رسول ٹرکوں نے بھی پناہ گزینوں کوسوار کر لیا تھا لیکن ان پر گولیوں کی بے پناہ بارش کی گئی۔دشمن کا حملہ اتنا شدید تھا کہ کسی پناہ گزین کے بیچ کر نکلنے کی امید نہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترسوں محکمہ بحر کے چار ٹرکوں کے بٹالہ میں رو کے جانے پر مغربی پنجاب کی حکومت نے فوجی حکام کے سامنے جب یہ سوال اٹھایا تو میجر جنرل چمپنی نے جواب دیا تھا کہ کنوائے کے کمانڈ رکو سرٹیفکیٹ کے لئے اصرار کرنا چاہیئے تھا۔اس کا یہ مطالبہ جائز ہوتا اور آئندہ کسی ایسے کنوائے کو جس کے پاس سرٹیفکیٹ ہو گا نہیں روکا جائے گا۔میجر جنرل چمنی نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ قادیان کی سڑک خراب ہے چنانچہ جمعرات کو یہ کنوائے اسی اطمینان کی بناء پر روانہ ہوا تھا“ ( بحوالہ روزنامه الفضل 5 اکتوبر 1947 ، صفحہ 6، حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 164 تا 165 مطبوعہ 2007ء) 18 - پروفیسر ناصر احمد ابن سراج دین صاحب مؤذن مسجد اقصیٰ مراد ہیں ( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 166 مطبوعہ 2007) -19۔جناب مرزا عزیز احمد صاحب ( ابن مکرم عطا اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:۔