تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 201 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 201

جلد اوّل 172 تاریخ احمدیت بھارت میں لکھا کہ قادیان کی نئی ملٹری جو آج آئی ہے راجپوتوں کی ہے اور بلا استثناء سب کی سب ہندو ہے یعنی۔کیپٹن بھی اور ماتحت افسر بھی اور سپاہی بھی۔اور مزید یہ ہے کہ کیپٹن وہی ہے جو گورداسپور میں تھا اور سٹھیالی میں احمدیوں کے خلاف بہت کچھ کا رروائیاں کرتا رہا ہے۔ملٹری کی درجہ بدرجہ تبدیلی میں مجھے ایک سوچی ہوئی تدبیر کا پہلو نظر آتا ہے۔سب سے پہلی ملٹری کا افسر بھی مسلمان تھا اور سپاہی بھی۔دوسری ملٹری کا افسر غیر مسلم تھا۔مگر سپاہی سب کے سب مسلمان تھے۔تیسری ملٹری کا افسر غیر مسلم اور سپاہی قریباً نصف مسلمان تھے اور نصف غیر مسلم۔اور اب جو ملٹری آئی ہے اس کا افسر بھی غیر مسلم ہے اور سب کے سب سپاہی بھی۔غالباً پولیس نے حکام میں خلاف رپورٹیں کر کے یہ صورت حال پیدا کی ہے۔اس تاریخ کو جمعہ کا دن تھا مگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حالات کی نزاکت کے مدنظر ہدایت فرمائی کہ جمعہ ہر محلہ کی مسجد میں ہوگا۔مسجد اقصیٰ میں مولا نائٹس صاحب نے جمعہ پڑھایا۔-9 ( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 159 مطبوعہ 2007ء) چوہدری صاحب کو سری گوبند پور کی پولیس نے قادیان میں آکر گرفتار کیا اور الزام یہ رکھا کہ آپ نے موضع ڈھپی میں سابق ملٹری کی معیت میں کسی سکھ کوگولی کا نشانہ بنایا ہے۔حالانکہ یہ محض ایک بے بنیاد بات تھی۔( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 159 مطبوعہ 2007ء) 10 - حضرت شاہ صاحب نے اپنی کتاب ”حیات الآخرة“ میں اپنے زمانہ اسیری کے بعض نہایت روح پرور واقعات لکھے ہیں۔( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 159 مطبوعہ 2007ء) 11 - قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک بار اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ” میں جب ایک دن قادیان میں صحابہ اور دوسرے بزرگان کی ایک جماعت کو لے کر بہشتی مقبرہ میں دعا کے لئے گیا تو حضرت مسیح موعود کے مزار کو دیکھ کر میرے منہ سے بے اختیار یہ مصرعہ نکلا کہ اے سید الوری مددے ! وقت نصرت است اس شعر کے دوسرے مصرعہ ( در بستاں سرائے تو کسی باغباں نہ ماند ) کے پڑھنے کی مجھے ہمت نہیں ہوئی اور میں نے دل میں کہا کہ جب دشمن اپنی مادی طاقت کے مظاہرہ سے ہمیں ختم کرے گا تو پھر اس وقت قادیان سے باہر کے دوست اسے پڑھنے کا حق رکھیں گئے“۔( بحوالہ الفضل 5 /اکتوبر 1947 ء صفحہ 4، حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 160 مطبوعہ 2007ء)