تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 178 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 178

جلد اوّل 162 تاریخ احمدیت بھارت ڈر سے یہاں آکر آباد ہو گئے تھے۔بیشتر آبادی غیر احمدیوں پر مشتمل تھی۔گاؤں کا نمبر دار بھی غیر احمدی تھا اور اس کے۔۔۔۔(غیر مسلموں) سے وسیع تعلقات تھے۔بعض دفعہ اس کو۔۔۔۔(غیر مسلم) دوست ملنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ایک دن علی الصبح ایک۔۔۔۔(غیر مسلم ) دوست اس کو ملنے کے لئے آیا۔گاؤں سے باہر ملاقات کا وقت پہلے سے مقرر تھا۔نمبر دار گھوڑے پر سوار تھا اور۔۔۔۔(غیر مسلم) دوست سے دوستانہ گفتگو کر رہا تھا۔لیکن نمبر دار کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے، جب وہ اطمینان سے گفتگو کر رہے تھے تو چھپے ہوئے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) نے نمبر دار کے سر کا نشانہ لے کر فائر کر دیا۔303 کی گولی نے نمبر دار کے سر کے پرخچے اڑا دیئے اور دونوں۔۔۔۔مفسدہ پرداز ) آنا فانا روپوش ہو گئے۔فائر کی آواز سن کر جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو نمبر دار مرا پڑا تھا اور اس کا مغز یعنی بھیجا ادھر اُدھر بکھرا پڑا تھا اور ان۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ہم اس کی لاش کو اٹھا کر اس کے گھر لے آئے۔سب گاؤں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی۔لوگ گاؤں خالی کرنے کی باتیں کرنے لگے۔نمبردار کی تجہیز و تکفین کے بعد سب لوگ اپنا اپنا ضروری سامان لے کر قادیان جانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔حوالدار نورمحمد اور دیگر سرکردہ لوگوں نے ان کو روکنے کی بڑی کوشش کی اور کہا کہ ہم تمہاری حفاظت کرنے کی خاطر ہی تو یہاں بیٹھے ہیں مگر کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔بہر حال اس قافلہ کی حفاظت کرنا بھی ہمارے فرائض میں شامل تھا۔لہذا جس طرح ہم کو حکم ملا ہم قافلہ کے آگے پیچھے ، دائیں بائیں ہوکر اس قافلے کو بحفاظت قادیان میں لے آئے اور خدا کے فضل سے راستے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔متعلقہ افسران نے مرکز میں پہنچ کر تفصیلی حالات کی رپورٹ پیش کر دی۔ہم کو بابا کبرعلی صاحب کی کوٹھی میں ٹھہرایا گیا۔(43) موضع مراد پورہ کا واقعہ قادیان سے بمقام ڈلہ ہوتے ہوئے اگر جنوب کی طرف سفر کریں تو تقریباً 12 کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد ایک گاؤں مراد پورہ آتا ہے۔راقم الحروف محمد حمید کوثر کو پہلی بار 1970ء میں مکرم افتخار احمد صاحب اشرف درویش مرحوم کے ساتھ مراد پورہ جانے کا موقعہ ملا۔وہاں ان کی کچھ زمین تھی اس وجہ سے وہ وہاں جایا کرتے تھے۔اس وقت تقسیم ملک پر تقریباً 23 سال ہی گزرے