تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 156
جلد اوّل 140 تاریخ احمدیت بھارت راستہ خراب ہو چکا ہے۔اس لئے تم واپس لاہور چلے جاؤ۔ورنہ یہاں تمہیں۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) زندہ نہیں چھوڑیں گے۔یہ سنتے ہی ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔اتنا خرچ، اتنی تگ و دو اور اتنی صعوبتوں کے بعد بے نیل و مرام واپس جانا ہمارے لئے ایک صدمہ عظیم تھا۔ہم نے ان ظالموں کی بڑی منت و سماجت کی۔لجاجت اور انکساری سے ان سے درخواست کی کہ وہ ہمیں قادیان جانے کی اجازت دے دیں۔مگر ان کا پتھر دل ہماری لجاجت سے ذرا بھی متاثر نہ ہوا۔دراصل راستہ کوئی خراب نہ تھا۔صرف اس لئے وہ ہمارے واپس جانے پر مصر تھے کہ اس رات وہ قادیان پر حملہ کرنے کی تیاری میں مصروف تھے۔بالآخر ہم نے اپنے ساتھ بٹالہ کے مسلمان پناہ گزین لے جانے کی اجازت کے لئے ان سے درخواست کی تو کچھ دیر تامل کے بعد انہوں نے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی۔ہم کوئی دس بجے ایک میدان میں سے گزر کر پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوئے۔یہاں ایک بہت بڑا جو ہڑ تھا جس کے کنارے یہ ستم رسیدہ پناہ گزین پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ان کی حالت انتہائی قابل رحم تھی۔لاغر اور مفلوک الحال تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا گویا برسوں سے بیمار ہیں۔اور جیسے خوشیاں ہمیشہ کے لئے ان سے منہ موڑ چکی ہیں۔چلنے پھرنے کی ان میں سکت نہ تھی۔ینگی اور کھردری زمین ہی ان کا بستر بچھونا تھی۔پھٹے پرانے چیتھڑے زیب تن کئے ہوئے تھے۔کوئی سویا ہوا تھا کوئی لیٹا ہوا تھا۔کوئی جو ہر سے پانی پی رہا تھا۔معمر عورتیں ایک دوسرے کے سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔یہ دردناک منظر دیکھ کر یقین جانئے ہمارا کلیجہ پھٹ گیا۔کیمپ میں ایک ہولناک سکوت طاری تھا۔ہم حیران تھے کہ ہمیں دیکھ کر یہ خوش کیوں نہیں ہوئے۔شاید اس لئے کہ ان کی یہاں سے بچ نکلنے کی امید بالکل منقطع ہو چکی تھی اور زندہ رہنے کا احساس مٹ چکا تھا۔لیکن جونہی ان کو بتایا گیا کہ ہم ان کو پاکستان لے جانے کے لئے آئے ہیں تو خدا معلوم ان میں اتنی پھرتی اور طاقت کہاں سے آگئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کے سب لاریوں پر ٹوٹ پڑے۔وہ لاریوں پر چڑھنے کی دھن میں ایک دوسرے سے بری طرح ٹکرارہے تھے اور ان میں وہ گہما گہمی ہوئی کہ ہم انگشت بدنداں رہ گئے۔آن واحد میں ساری لاریاں بھر گئیں۔کیمپ میں کچھ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) ادھر اُدھر پھرتے نظر آ رہے تھے جو ہمیں غیظ وغضب کی نظروں سے گھور رہے تھے۔جب ہماری تمام لاریاں بھر گئیں اور ہم روانہ ہونے کو تھے دفعتا کیمپ کے اردگر دلمبی لمبی گھانس اور گھنی جھاڑیوں میں سے جہاں مشین گنیں اور برین گئیں تھامے ہوئے یہ ظالم چھپے ہوئے تھے گولیوں کی