تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 157 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 157

تاریخ احمدیت بھارت 141 جلد اول بوچھاڑ شروع ہوئی۔ایسی غضب کی بوچھاڑ تھی کہ کانوں کے پردے پھٹ جانے کا اندیشہ ہونے لگا۔یہ دیکھ کر ہمارے دل دہل گئے اور بے بسی کے عالم میں موت کے ہیبت ناک خوف سے ہمارے جسم کپکپانے لگے۔بے چارے پناہ گزین جو چند لمحہ پہلے پاکستان پہنچنے کا خوشگوار خواب دیکھ رہے تھے، اب ایک دوسرے کی طرف خوف زدہ نظروں سے تکنے لگے۔ان بے چاروں کو کیا معلوم تھا کہ ان کا خواب اتنی جلدی شرمندہ تعبیر ہونے والا نہ تھا۔بیسیوں پناہ گزین چند لحوں میں لقمہ اجل بن گئے۔اس طرح بے بسی کی حالت میں مارے جانے کا احساس دوسرے انسانوں کو بھی بد حواس کر دینے کے لئے کافی تھا۔جس لاری میں میں بیٹھا ہوا تھا وہ خاص طور پر ظالموں کا نشانہ بنی ہوئی تھی اور گولیاں بے تہاشہ اس طرف تڑ تڑ کرتی ہوئی آرہی تھیں۔یہ صورت حال میرے لئے اور بھی مایوس کن تھی۔چند سیکنڈ تک میں اپنی جگہ بے حس و حرکت دہشت زدہ آنکھوں سے دیکھتا رہا۔کہ کس طرح بعض پناہ گزین ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ رہے تھے بعض کے شانوں سے خون کی دھار ابل رہی تھی اور بعض خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ساری کائنات کراہ رہی ہے۔ان کے چہرے فرط خوف سے سپید پڑچکے تھے۔ٹانگیں تھر تھرارہی تھیں۔اگرچہ میری کیفیت یہ نہ تھی تاہم موت کو اتنے قریب پا کر اپنے حواس برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔پناہ گزینوں کو اس طرح مرتے ہوئے اور زخمی ہوتے ہوئے مجھ سے دیکھا نہ گیا تھا۔یہ دیکھ کر میرے دل میں لاری سے اتر جانے کا خیال پیدا ہوا۔لیکن اس وقت اتر نا بہت سخت اور جان لیوا مرحلہ تھا مگر مجبوراً دھڑکتے دل کے ساتھ میں لاری سے اتر گیا اور نزدیک جوہڑ کے کنارے گولیوں کی زد سے بچنے کے لئے ایک مٹی کے ٹیلہ کی آڑ لی لیکن ابھی میں بمشکل وہاں بیٹھا ہی تھا کہ دو گولیاں سنسناتی ہوئی میرے دائیں بائیں سے اتنے قریب سے گزریں کہ میری ذراسی جنبش مجھے موت کی آغوش میں سلانے کے لئے کافی تھی اور ایک گولی میرے سامنے آکر زمین میں دھنس گئی جس کی گرد سے آنکھیں چندھیا گئیں۔میں ذرا پیچھے ہٹاتا اپنے آپ کو اور محفوظ جگہ پر پہنچاؤں لیکن آپ میرے خوف و ہراس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔جب میں نے دیکھا کہ مجھے وہاں تنہا چھوڑ کر لاریاں روانہ ہونے لگی ہیں۔دل سخت دھڑکنے لگا اور چند سیکنڈ تک میں اپنی جگہ بے حس و حرکت کھڑا رہا۔میرا ذہن بالکل ماؤف ہو چکا تھا میری ہمت قطعاً جواب دے چکی تھی۔اگر چہ مجھے موت کا کوئی خوف نہیں تھا لیکن اس طرح دشمن کے گھیرے میں کتے کی موت مرنے کو میں تیار نہیں تھا۔اس وقت اگر مجھے غیبی ہاتھ تھامے ہوئے نہ ہوتا تو میں کبھی کا ان درندوں کے ہاتھوں لقمہ اجل