تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 149 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 149

تاریخ احمدیت بھارت 133 جلد اوّل بلکہ راستہ میں بھی پوری حفاظت کا انتظام کیا گیا اور سارا قافلہ امن وامان سے لاہور پہنچ گیا۔جتنے دن عورتیں اور بچے قادیان میں محصور اور غیر معمولی خطرات میں گھرے رہے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نہایت ہی بے چین اور بیکل رہے۔اس بے چینی کا کسی قدر اظہار حضور نے ایک والا نامہ کے ذریعہ بھی فرمایا جو اہل قادیان کے نام تھا اور سب کو سنایا گیا اور اس کے سننے سے جہاں ہر مرد و عورت کے حوصلے بلند اور دل اور زیادہ مضبوط ہو گئے وہاں ہر ایک نے یہ بھی محسوس کیا کہ حضور کو اپنی جماعت کے اس ناتواں طبقہ کا جو عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے کس قدر فکر اور خیال ہے اور اس کی حفاظت کے لئے کس قدر بیچین ہیں۔دراصل ظلم و ستم کے خوفناک طوفان بیکراں میں سے مرکز جماعت کی تمام خواتین اور بچوں کا جن کا شمار ہزاروں میں تھا ہر طرح کی حفاظت کے ساتھ بخیر و عافیت نکال لینا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے کارناموں میں سے ایک عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی اہمیت کا اندازہ لگا نا ممکن نہیں۔اور جوں جوں زمانہ گزرتا جائے گا اور غور و فکر کرنے کا موقعہ ملے گا اس کی اہمیت بڑھتی ہی جائے گی اور غور کرنے والوں کو محو حیرت کرتی رہے گی اور اس سلسلہ میں جن احباب کو حضور کے ارشادات اور تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی سعادت حاصل ہوئی اگر ان میں سے کوئی تفصیلی حالات قلمبند کر کے شائع کرائے تو بہت ہی اچھا ہو۔۔۔۔۔۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کے خاص انتظامات کے ماتحت تمام عورتوں اور بچوں کے قادیان سے روانہ ہو جانے کے بعد مردوں کے کندھوں سے ان کی حفاظت کی ذمہ داری کا بہت بڑا بوجھ اُتر گیا تو ملٹری اور پولیس نے یہ کہہ کر کہ بورڈنگ میں سے عورتوں کے چلے جانے کی وجہ سے مردوں کے رہنے کی گنجائش نکل آئی ہے، فضل عمر ہوسٹل اور قریب قریب کے مکانات جن میں احمدی پناہ گزین تھے جبراً کھالی کرانے شروع کر دیئے اور پھر سب کو بورڈنگ میں محبوس کر دیا۔(33) (16)۔بیگار ان ایام میں فوجی پہرہ میں ہم سے کئی قسم کی بیگار بھی لی گئی۔منتظمین سے کہا جاتا کہ کام کرنے کے لئے فوراً اتنے آدمی بھیج دور نہ ملٹری جبراً کام کرائے گی۔ایک دن مولوی ابوالعطاء صاحب نے فضل عمر ہوٹل میں آکر بھی اعلان کیا کہ دوست خود بخود چلے جائیں اور احباب چلے گئے۔بیرونی دیہات کے ہزار ہا مرد