تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 148
جلد اوّل 132 تاریخ احمدیت بھارت موجود تھا جو اس آڑے وقت کام آیا۔ابتدا میں کچھ دن گندم اُبال ابال کر کھانے کے لئے دی جاتی رہی۔بعد میں تھوڑے بہت آٹے کا انتظام ہو گیا اور فی کس ایک ایک روٹی صبح و شام ملنے لگی۔کچھ چاول بھی میسر آگئے۔وہ بھی ابال کر تھوڑے تھوڑے دیئے جاتے۔اس قسم کی خوراک سے پیچش کی بیماری عام طور پر پھیل گئی جس کے لئے نہ تو کھانے پینے میں پر ہی ممکن تھا۔نہ علاج میسر تھا۔کیونکہ ہمارے ہسپتال پر قبضہ کر لینے کے علاوہ پرائیویٹ دکانوں کو بھی ملٹری اور پولیس نے اپنے تصرف میں لے کر کسی دوائی کا حاصل کرنانا ممکن بنا دیا تھا۔(14)۔ہوائی جہاز پر گولیوں کی بوچھاڑ بیرونی دنیا سے بالکل منقطع کر دینے کے لئے ڈاک، تار اور ٹیلیفون وغیرہ کا سلسلہ تو پہلے ہی کاٹ دیا گیا تھا۔لاہور سے ہوائی جہاز کبھی کبھی ظلم و ستم کا نظارہ کرنے کے لئے آیا کرتا تھا۔اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی جاتی تھی۔آخر جہاز کا آنا بھی بند ہو گیا۔لیکن جب قادیان کو ملٹری اور پولیس نے غنڈے۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی آڑ میں ویرانہ بنا دیا تو ایک دن ایک زرد رنگ کا ہوائی جہاز آیا۔حسب معمول پولیس اور ملٹری نے اس پر بھی گولیاں برسانی شروع کر دیں۔مگر وہ ان کی کوئی پروا کئے بغیر بہت نیچے اُڑتا۔ہوا اور سارے قادیان پر کئی چکر لگا کر تباہی و بربادی کو اچھی طرح دیکھ کر چلا گیا۔(15) خواتین کی حفاظت کا انتظام بورڈنگ کے قریب قریب کے مکانوں میں چونکہ فورا ہی۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو داخل کر دیا۔اُدھر رات بھر ملٹری ہمارے ارد گرد چکر لگاتی اور گولیاں چلاتی رہتی۔ایسی حالت میں ان۔۔۔۔(مفسده پردازوں) نے شرارتیں کرنی شروع کر دیں۔اور ایک رات ایک مکان سے ہماری طرف دو بم بھی پھینکے گئے مگر وہ نہ پھٹے۔اس سے ان کی غرض بورڈ نگ خالی کرا نا تھی۔مگر ہمارے نوجوانوں کی سرفروشی اور خود حفاظتی کے جذبہ نے انہیں نا کام رکھا اور نوجوانوں کے اسی جذبہ نے اس وقت بھی بہت کام دیا جب عورتوں اور بچوں کو نکالنے کے لئے ملٹری ٹرک بہت بڑی تعداد میں قادیان پہنچے اور ان میں عورتوں اور بچوں کو سوار کر کے روانہ کیا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کو نہ صرف پوری حفاظت کے ساتھ سوار کرایا گیا