تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page xvii
جلد اوّل XII تاریخ احمدیت بھارت كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُم یعنی تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے۔(صحیح مسلم کتاب التوبه ) اللہ تبارک تعالیٰ اور سید الوریٰ حضرت محمد مصطفی صلی یا یتیم کا تاریخی حقائق کا ذکر فرمانا تاریخ کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔تاریخ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس سے آنے والی نسلیں استفادہ کرتی ہیں اور اس سے نور حاصل کر کے اپنے مستقبل کو مزید روشن اور منور بنا سکتی ہیں۔اور اگر اسلاف میں سے کسی سے کہیں کوئی غلطی ہوئی تو اس سے عبرت وسبق حاصل کرتے ہوئے اس طرح کی غلطی کے اعادہ سے اجتناب کر سکتی ہیں اور اس کے بد انجام و نتائج سے بچ سکتی ہیں۔مخبر صادق سید نا حضرت محمد مصطفی صلی یا یہ تم نے امت محمدیہ میں اپنی بعثت ثانیہ کے مظہر حضرت امام مهدی مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کی پیشگوئی فرمائی تھی۔اس تعلق سے آپ کی پیشگوئی کمال وضاحت اور صفائی سے پوری ہوئی۔تاریخ کا فرض ہے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ہر ایک پیشگوئی کے پورا ہونے کی تفصیلات کو محفوظ کرے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان پیشگوئیوں کا کمال صفائی سے پورا ہونا ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی صفت کلیم کا بین ثبوت ہے۔اور دوسری طرف سیدنا حضرت محمد مصطفی سنی اتم کی صداقت کا نا قابل تردید ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیرہ چودہ صدیاں قبل جو خبریں دیں وہ بعینہ پوری ہوئیں۔اور عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے ” جماعت احمدیہ سلمہ کی بنیاد 20 رجب 1309 هجری بمطابق 23 مارچ 1889ء میں رکھی۔اس جماعت کی ایک سنہری و روشن تاریخ ہے۔سیدنا الصلح الموعود نے اپنے درج ذیل مکتوب گرامی کے ذریعہ (جو کہ اخبار المصلح 20 مئی 1953ء میں طبع شدہ ہے ) جماعت احمدیہ کی تاریخ مرتب کرنے کا اعلان فرمایا۔اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ احباب کرام! خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته آپ کو علم ہے کہ ہماری جماعت کی تاریخ اب تک غیر محفوظ ہے۔حضرت مسیح موعود کے سوانح