تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page xvi of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page xvi

تاریخ احمدیت بھارت XI جلد اوّل بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلی عبدہ المسیح الموعود پیش لفظ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورۃ البقرہ کی (31) اکتسویں آیت سے بنی نوع انسان کو مخاطب کرنے کا سلسلہ بایں الفاظ شروع فرمایا وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ ، یعنی اے انسان تو اس وقت کو یاد کر۔پھر اسی طرز کلام کو اکتالیسویں آیت میں ان الفاظ میں بیان فرمایا۔يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا یعنی اے بنی اسرائیل یاد کرو۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں بعض ایسے انبیاء کا تذکرہ فرمایا گیا جو کہ ماضی میں گزر چکے تھے۔مثلاً حضرت یعقوب اور یوسف عليهما السلام کے بارے میں ایک مکمل سورۃ (یوسف) نازل فرمائی اور اس سورۃ میں جو تاریخی واقعات حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بیان کئے گئے اسے أَحْسَنَ الْقَصَصِ ( سورۃ یوسف آیت 4) کہا گیا، نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی سلامی ایام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے جو یہ قرآن تجھ پر وحی کیا اس کے ذریعہ ہم تیرے سامنے ثابت شدہ تاریخی حقائق میں سے بہترین ( حقائق ) بیان کرتے ہیں۔مزید فرمایا ألم تر كيف فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ (الفیل آیت 2) کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں سے کیا سلوک کیا ؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمد مصطفی سالی نے اسلام کے ذریعہ قاری قرآن مجید کو اصحاب فیل کی تاریخ معلوم کرنے کی تلقین فرمائی۔مزید برآں قوم نملہ۔اصحاب الکھف۔عاد ثمود کے تاریخی حقائق بھی قرآن مجید میں مذکور ہیں۔سید نا حضرت محمد مصطفی سائنسی ایتم گذشتہ اقوام کے بعض تاریخی ایمان افروز وعبرتناک واقعات بیان فرمایا کرتے تھے۔مثلاً آپ نے فرمایا۔