تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 147
تاریخ احمدیت بھارت 131 جلد اول ہوئے میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جس کا نام عطاء اللہ ہے اور محلہ دارالفضل کا رہنے والا تھا اس نے دوسرے ہی دن کدال ہاتھ میں لے کر یہ کام شروع کر دیا اور روزانہ کرتا رہا۔بعد میں اور بھی نوجوان اس کام میں مصروف ہوتے گئے اور انہوں نے یہ خدمت ادا کرنے میں قابل تعریف اور لائق تحسین سرگرمی دکھائی۔باوجود اس کے حالت نہایت ہی تکلیف دہ اور پریشان کن تھی۔آخر ایک دن جب یہ معلوم ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسر ہوائی جہاز کے ذریعہ حالات ملاحظہ کرنے کے لئے آرہے ہیں تو اتنی اجازت دی گئی کہ کالج کے ہوٹل اور قریب دو چار مکانوں میں جو لوگ رہنا چاہیں جاسکتے ہیں اس پر کچھ لوگ وہاں چلے گئے۔(11) - جبر اتبدیلی مذہب کالج کے ہوسٹل میں ایک دن صبح ہی صبح دو مرد عورتیں اور چند بچے ہانپتے کانپتے متصل کے ایک گاؤں جو گی چیمہ سے پہنچے۔جنہوں نے بتایا کہ گاؤں کے۔۔۔۔(غیر مسلموں) نے انہیں زبردستی۔۔۔۔(جبراً مذہب تبدیل کروا کر ایک مکان میں زیر حراست رکھا ہوا تھا۔لیکن گزشتہ رات موقع پا کر وہ کھیتوں میں چھپتے چھپاتے بھاگ آئے۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ۔۔۔۔(غیر مسلموں) کے دیہات میں جو مسلمان بستے تھے انہیں نہ صرف گھروں سے نہ نکلنے دیا گیا بلکہ جبراً ان کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔(12) - کالج اور ہوٹل پر قبضہ کالج کی عمارت سے سخت بارش کے دوران پناہ گزینوں کو نکال کر ملٹری نے پہلے ہی اس پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں اپنا اڈہ قائم کر رکھا تھا۔اب کالج کے ہوٹل کو بھی خالی کرالیا گیا۔اور جولوگ یہاں رہنے لگے تھے انہیں پھر بورڈ نگ آنا پڑا۔(13)۔کھانے پینے کی مشکلات بورڈنگ کا تعلق اسی دن سے شہر میں رہنے والے احمدیوں سے منقطع کر دیا گیا جس دن کہ لوگوں کو گھروں سے نکال کر بورڈنگ میں ٹھونس دیا گیا تھا۔نہ کوئی شہر میں جاسکتا تھا اور نہ آسکتا تھا۔کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے سے بالکل روک دیا گیا لیکن باوجود اس کے ہمارے منتظمین نے ہزاروں مردوں عورتوں اور بچوں کی جانیں بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔بورڈنگ اور ہوٹل میں غلہ کا کافی ذخیرہ