تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 146 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 146

جلد اوّل 130 تاریخ احمدیت بھارت جانے کی وجہ سے پناہ گزینوں کے ٹھیرنے کے قابل نہ تھا غلاظت سے اٹ گیا، اور اس میں لمحہ بہ لحہ اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔اسی دن صبح ہی صبح ان ہزار ہا لوگوں کو جو ادھر اُدھر بکھرے پڑے تھے، اور بہت دنوں سے انتظار میں تھے کہ ملٹری کی حفاظت میں قافلہ پیدل روانہ ہو تو وہ بھی کسی طرف کا رخ کریں، انہیں ملٹری اور پولیس نے زبردستی ہانک کر بٹالہ کی طرف روانہ کرنا شروع کر دیا۔اور وہ لوگ نہ صرف بہت کچھ اپنا اسباب پھینک کر بلکہ اپنے بوڑھے اور بیماررشتہ داروں کو بھی چھوڑ چھاڑ کر جانے لگے۔اس وقت ہمارے منتظمین نے اعلان کر دیا کہ کوئی احمدی اس قافلہ میں نہ جائے کیونکہ راستہ میں لوٹ مار اور قتل و غارت کا سخت خطرہ ہے۔آخر اس لئے ہوئے قافلہ کو جسے ملٹری اور پولیس نے یہ کہہ کہہ کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس کی حفاظت کرے گی، بٹالہ پہنچتے پہنچتے بالکل ہی لٹواد یا اور بیبیوں آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔کیونکہ راستہ کے دونوں طرف ہزار ہا مسلح۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) لٹیرے کھڑے تھے جو کھلم کھلا لوٹتے اور قتل کرتے تھے، اور کوئی ان کو روکنے والا نہ تھا۔تباہ حال پناہ گزینوں کو موت کے منہ زبردستی دھکیل کر پولیس اور ملٹری نے جو جگہ خالی کروائی تھی وہ اگر چہ غلاظت اور گندگی کی وجہ سے ہی ٹھیر نے کے نا قابل تھی لیکن جس تکلیف اور مصیبت میں گزشتہ رات جگہ کی تنگی کی وجہ سے گزاری گئی تھی ، وہ مجبور کر رہی تھی کہ قریب قریب کی عمارتوں میں جو سکول اور بورڈنگ سے ہی متعلق تھیں سر چھپانے کی کوشش کی جائے۔لیکن ملٹری کی طرف سے حکم جاری ہو گیا کہ اس سارے علاقہ میں جہاں سے پناہ گزین اٹھے ہیں کوئی داخل نہ ہو بلکہ ادھر سے گزرنے کی بھی جرات نہ کرے ورنہ گولی سے اڑا دیا جائے گا۔اس طرح کئی ہزار مردوں عورتوں اور بچوں کو ایک چھوٹے سے احاطہ میں محصور کر کے جہاں کھانے پینے کی ضروریات سے یکسر محروم کر دیا گیا وہاں اس بات کے لئے بھی مجبور کر دیا کہ عفونت اور گندگی کی شدید تکلیف میں پڑے رہیں ، جو کہ لمحہ بہ لحد بڑھتی جارہی تھی۔ان حالات میں مسلسل کئی دن گزارے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بورڈنگ کے صحن میں چلنا پھرنا یا اسکے آس پاس آنا تو الگ رہا بد بو اور تعفن کی وجہ سے کمروں کے اندر بیٹھنا تک محال ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی غلاظت کی بھر مار کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ بے انتہا کثرت کے ساتھ مکھی پیدا ہو گئی جس نے رہا سہا چین بھی چھین لیا۔اس دوران میں غلاظت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر سوائے اس کے کیا بھی کیا جا سکتا تھا کہ محدودسی جگہ میں گڑھے کھود کھود کر غلاظت کو دبانے کی کوشش کی جاتی۔سب سے پہلے یہ کام کرتے