تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 139 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 139

تاریخ احمدیت بھارت 123 جلد اوّل پردازوں) کی تلواروں سے ٹپک رہے تھے۔جو دوسرے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے ان کے پیچھے بھاگ کر آتے ہوئے زد میں آچکے تھے۔اور ان کا زندہ بیچ کر واپس چلا جانا ممکن نہ تھا۔ان کو ٹھکانے لگا دینا بالکل آسان تھا۔لیکن ایسے وقت میں ہمارے نوجوانوں نے جوش کو دبایا اور تعمیل حکم کے جذبہ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے نظم وضبط کے احترام کا قابل ستائش ثبوت دیا۔یہ سورے۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جو ایک بوڑھے اور بیمار کو بیٹھے ہوئے قتل کر کے اور ہمارے چند چھوٹی عمر کے نو جوانوں کو دیکھ کر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلے تھے جب اپنے مجمع میں واپس پہنچے تو وہاں کچھ غیر معمولی حرکت نظر آنے لگی۔کچھ۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) ادھر اُدھر منتشر ہوتے بھی نظر آئے مگر پولیس نے ان پر قابو پالیا اور ان کے اُکھڑتے ہوئے قدم پھر ٹھہر گئے۔(30) (7)۔پولیس اور ملٹری کی معیت میں مفسدہ پردازوں کا حملہ اور انتہائی مظالم 3 /اکتوبر کو جب۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے محلہ دارالرحمت کے قریب کے کھیت میں ایک بوڑھے بیمار پاخانہ بیٹھے ہوئے پناہ گزین مسلمان کو قتل کر دیا اور بعض اور کو قتل کرنے کے لئے اُن کے پیچھے بھاگے تو اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ شرارت کا آغاز کریں۔اور لوگوں کو خوفزدہ کر کے مکانات خالی کر دینے پر مجبور کر دیں۔لیکن جب حملہ آوروں نے دیکھا کہ احمدی نوجوان آبادی کے اندر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں تو بھاگ کر اسی مجمع میں چلے گئے جس سے نکل کر آئے تھے۔اور وہاں کچھ دیر ہلچل مچی رہی۔اس دوران میں پولیس اور ملٹری دوسری طرف سے محلہ میں داخل ہو گئی اور کثرت سے گولیاں چلانے لگی۔اُدھر محلہ کی گلیوں میں اور پناہ گزینوں کے آس پاس ملٹری اور پولیس گولیاں چلا رہی تھی ادھر میں نے دیکھا کہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز غنڈوں کے مجمع سے قطاریں باندھ کر۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) مختلف اطراف سے محلہ کی طرف بڑھنے لگے۔یہ لوگ مختلف قسم کے ہتھیاروں سے مسلح تھے جن میں سے تلوار میں اور برچھیاں خاص طور پر نمایاں تھیں۔سوار اور پیدل پولیس ان کے پاس کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔مگر وہ بھی چونکہ کلیہ۔۔۔۔۔۔۔۔(غیر مسلموں) پر مشتمل تھی اس لئے بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ حملہ آوروں کو