تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 118 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 118

جلد اوّل 102 تاریخ احمدیت بھارت جماعت احمدیہ کا مردانہ اور زنانہ نور ہسپتال جبراً خالی کروالیا گیا اور بیماروں اور زخمیوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ باہر نکال کر ہسپتال کا قبضہ ایک ہندو ڈاکٹر کو دے دیا گیا اور بعد میں ایک سکھ ڈاکٹر کو اس کا انچارج بنادیا گیا۔(22) 10 اکتوبر 1947ء مسجد اقصیٰ پر پھر بمباری کی گئی۔چار بموں میں سے دو نے پھٹ کر مسجد کے فرش کو نقصان پہنچایا۔اور ایک بم حضرت مسیح موعود کے والد بزرگوار کی عین قبر کے پاس گرامگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ پھٹا نہیں۔(23) 14 اکتوبر 1947ء حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے، کرنل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب کی اسکورٹ میں لاہور آگئے اور ان کی جگہ قادیان میں مولوی جلال الدین صاحب شمس سابق امام مسجد لنڈن کو امیر مقامی مقرر کیا گیا۔(24) 15 اکتوبر 1947ء جماعت احمدیہ کا پریس جس میں جماعت کا مرکزی اخبار ” الفضل ، چھپتا تھا اور اسی طرح حضرت بنت المسح اول کی لائبریری اور اس کے ساتھ شامل شدہ دیگر لائبریریوں پر قبضہ کر کے ان پر مہریں لگادی گئیں۔اس مرکزی لائبریری میں تیس ہزار کے قریب علمی کتا بیں تھیں۔جو زیادہ تر عربی اور فارسی میں تھیں۔اور کئی نایاب کتب اور بیش قیمتی قلمی نسخے بھی لائبریری میں موجود تھے جن سے احمدی علماءا اپنی علمی خلیفةا تحقیقاتوں میں فائدہ اُٹھاتے تھے۔30 اکتوبر 1947ء اس دن معلوم ہوا کہ حملہ کے ایام میں اور اس کے بعد قادیان کی تین مسجدوں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔یعنی مسجد محلہ دار الرحمت کے مینار مسمار کر دیئے گئے تاکہ مسجد کی علامت کو مٹادیا جائے۔مسجد خوجیاں ( جو قادیان کے دوسرے مسلمانوں کی مسجد تھی ) پر یہ بورڈ لگا دیا گیا کہ یہ آریہ سماج کا مندر ہے۔اور محلہ دار العلوم کی مسجد نور جو تعلیم الاسلام کالج کے ساتھ ملحق تھی اسے غیر مسلموں نے اپنی جلسہ گاہ بنالیا اور محن مسجد کے نلکوں پر۔۔۔۔(غیر مسلموں) نے کپڑے دھونے شروع کر دیئے۔