تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 117
تاریخ احمدیت بھارت 101 جلد اوّل 4/اکتوبر 1947ء قادیان میں جمع شدہ (غیر احمدی) پناہ گزینوں میں سے چالیس ہزار انسانوں کا پہلا پیدل قافلہ قادیان سے علی الصبح روانہ ہوا۔ہندو ملٹری ساتھ تھی لیکن ابھی یہ قافلہ قادیان کی حد سے نکلا ہی تھا کہ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھوں نے حملہ کر دیا اور چھ میل کے اندر اندر کئی سو مسلمان شہید کر دیئے گئے۔اور بہت سی عورتیں اغوا کر لی گئیں اور جو ر ہا سہا سامان مسلمانوں کے پاس تھا وہ لوٹ لیا گیا۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ کئی دن بعد تک نہر کے ساتھ ساتھ میل ہا میل تک لاشوں کے نشان نظر آتے تھے۔(20) 4/اکتوبر 1947ء کو کرفیو اٹھنے کے بعد جب بیرونی محلوں میں رہنے والے احمدی اپنے مکانوں کی دیکھ بھال کے لئے باہر جانے لگے تو بڑے بازار کے اختتام پر جو ریتی چھلہ سے ملتا ہے، عین دن دہاڑے برسر بازارسات احمدیوں کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ان لوگوں میں میاں سلطان عالم بی اے معاون ناظر ضیافت بھی تھے اور جب بعض لوگ شہید ہونے والے احمدیوں کی لاشوں کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھے تو وہ بھی گولی کا نشانہ بنا دیئے گئے۔(21) 4/اکتوبر 1947ء سٹار ہوزری قادیان کے مال کو لوٹ لیا گیا جس میں بیش قیمت اون اور لا تعداد جرا ہیں اور سویٹر اور کمبل وغیرہ شامل تھے اور یہ لوٹ مار مقامی مجسٹریٹ کی آنکھوں کے سامنے ہوئی۔5 اکتوبر 1947ء بیرونی (غیر احمدی ) پناہ گزینوں کا دوسرا پیدل قافلہ قادیان سے روانہ ہوا۔اس قافلہ میں قریباً دس ہزار مسلمان شامل تھے۔اور کچھ 3 اکتو بر والے حملہ میں قادیان میں شہید ہو چکے تھے۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس قافلہ پر راستہ میں کیا گزری۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں محصور شدہ احمدیوں سے ہند و ملٹری نے جبراً بیگار لی اور ان کے سر پر کھڑے ہو کر پناہ گزینوں کے چھوڑے ہوئے سامانوں کو اکٹھا کروا کر مختلف مقامات پر پہنچانے کے لئے مجبور کیا۔اس قسم کی بیگار کئی دن لی جاتی رہی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت پر معہ اس کے سامان کے قبضہ کر لیا گیا۔