تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 116
جلد اوّل 100 تاریخ احمدیت بھارت کو خود پولیس نے گولیاں چلا کر مسجد کی دیوار کے ساتھ شہید کر دیا۔عین اس وقت اطلاع ملی کہ قادیان کے محلہ دار الفتوح اور محلہ دار الرحمت پر بھی ہزار ہا۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے حملہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی ان کے حملہ کو کامیاب بنانے کے لئے پولیس نے کرفیو کا اعلان کر دیا۔چنانچہ اس حملہ میں دوسو کے قریب مسلمان ( احمدی اور غیر احمدی، مرد اور عورتیں، بچے اور بوڑھے ) یا شہید ہو گئے اور یا لا پتہ ہوکر اب تک مفقودالخبر ہیں۔شہید ہونے والوں میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک حرم محترم کے حقیقی ماموں مرزا احمد شفیع صاحب بی۔اے بھی تھے ( 19 )۔جو اپنے مکان کی ڈیوڑھی میں پولیس کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنے۔مگر ظالم دشمنوں نے شہید احمدیوں کی لاشیں تک نہیں لینے دیں تا کہ ان کی شناخت اور صحیح تعداد کو مخفی رکھا جا سکے اس دن حملہ آوروں نے لاکھوں روپے کا سامان احمدیوں کے گھروں سے لوٹا۔اس قسم کے نازک حالات میں بیرونی محلہ جات کے صدر صاحبان نے جماعت کی حفاظت (خصوصاً عورتوں اور بچوں کی حفاظت ) کے خیال سے یہ ضروری سمجھا کہ قادیان کی احمدی آبادی کو بعض مخصوص جگہوں میں سمیٹ کر محفوظ کر لیا جائے۔چنانچہ ایک حصہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں جمع ہو گیا اور دوسرا دارا مسیح اور مدرسہ احمدیہ اور اس کے ملحقہ مکانات میں بند ہو گیا۔ہزار ہا انسانوں کے تھوڑی سی جگہ میں محصور ہو جانے سے صفائی کی حالت نہایت درجہ ابتر ہوگئی۔اور بعض جگہ پر ایک ایک فٹ تک نجاست جمع ہوگئی۔جسے احمدی خدام نے خود خاکروبوں کی طرح کام کر کے گڑھوں میں بند کیا۔دوسری طرف آٹے کی مشینوں کے بند ہونے کی وجہ سے جہاں اکثر حصہ آبادی کا گندم اُبال اُبال کر کھار ہا تھا وہاں بیماروں اور دودھ پلانے والی عورتوں اور چھوٹے بچوں کے واسطے آنا مہیا کرنے کے لئے بہت سے معزز احمدی مردوں کو اپنے ہاتھ سے چکیاں چلانی پڑیں۔یہ دن وہ تھے جبکہ دار مسیح اور مدرسہ احمد یہ میں ٹھہرے ہوئے لوگ ان احمد یوں سے بالکل کٹے ہوئے تھے جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں محصور تھے۔کیونکہ درمیانی راستہ بالکل بند اور خطر ناک طور پر مخدوش تھا۔انہی ایام میں نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی کوٹھی دار السلام اور عزیزم مکرم میاں شریف احمد صاحب کی کوٹھی پر جبر أقبضہ کر لیا گیا۔