تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 115
تاریخ احمدیت بھارت 99 جلد اول 2 /اکتوبر 1947ء تعلیم الاسلام ڈگری کالج قادیان اور فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان کی عمارت اور سامان پر ملٹری نے جبراً قبضہ کر لیا اور احمدیوں کوزبر دستی باہر نکال دیا۔۔۔۔۔(مفسده پرداز) جتھوں نے پولیس کی امداد سے محلہ دار الراحت ( یہ محلہ دار لرحمت نہیں ہے بلکہ قادیان کی پرانی آبادی کے ساتھ جنوب مغربی جانب دارالصحت کے قریب ایک اور محلہ ہے ) پر حملہ کیا اور حملہ آوروں کا ایک جتھہ محلہ مجد فضل قادیان میں بھی گھس آیا اور لوٹ مچائی۔موضع بھینی بانگر متصل دار البرکات و دار الانوار قادیان پر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھوں نے حملہ کیا۔ہند وملٹری موقعہ پر موجود تھی مگر ہوا میں فائر کرنے کے سوا اس نے حملہ کے روکنے میں کوئی حصہ نہیں لیا۔اور 2 - 3 /اکتوبر کی درمیانی شب قریباً ساری رات گولیاں چلتی رہیں۔بھینی کی کئی مسلمان عورتیں اغوا کر لی گئیں اور گاؤں خالی کرالیا گیا۔2 /اکتوبر 1947ء 2 اور 3 راکتو بر کی درمیانی شب کو قادیان کی مسجد اقصیٰ (یعنی منارة المسیح والی جامع مسجد ) میں بم پھینکا گیا جو ایک قریب کے ہندو مکان کی طرف سے آیا تھا۔اس بم سے موذن مسجد کا لڑکا بری طرح زخمی ہوا۔اور دشمن نے ہمیں بتادیا کہ ہم مسلمانوں کے جان مال اور عزت ہی کے پیاسے نہیں بلکہ ان کی مقدس جگہوں کی بے حرمتی کے واسطے بھی تیار ہیں۔(18) 3 اکتوبر 1947ء یہ دن قادیان کی تاریخ میں خصوصیت سے یادگار رہے گا کیونکہ اس دن دشمنوں کے مظالم اپنی انتہاء کو پہنچ گئے۔اور لوٹ مار اور قتل و غارت اور اغوا کے واقعات بھیانک ترین صورت میں ظاہر ہوئے۔سب سے پہلے آٹھ اور نو بجے صبح کے درمیان قادیان کی غربی جانب سے محلہ مسجد فضل پر ہزار ہا۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے پولیس کی معیت میں حملہ کیا اور قتل و غارت کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے عقب تک پہنچ گئے اور جو ( غیر احمدی ) عورتیں مسجد کے پچھواڑے پناہ لینے کے لئے جمع تھیں ان میں سے کئی ایک کو اغوا کر لیا گیا۔اور جب احمدی نوجوان عورتوں کی آہ و پکار سن کر ان کی طرف بڑھے تو دونو جوانوں