تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 114
جلد اوّل 98 تاریخ احمدیت بھارت محله دارالانوار <mark>قادیان</mark> کے متعدد مکانوں کو لوٹا گیا۔ان مکانوں میں کرنل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل میڈیکل سروس پاکستان اور خان بہادر چوہدری ابوالہاشم خان ایم ،اے ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز اور مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم، اے سابق امام مسجد لندن کے مکانات بھی شامل تھے۔30 ستمبر <mark>1947ء</mark> پولیس نے مقامی خاکروبوں کو حکم دے دیا کہ مسلمانوں کے گھروں میں صفائی کے لئے نہ جائیں جس کی وجہ سے احمدیوں کے گھر نجاست سے اٹ گئے اور احمدیوں کو خود اپنے ہاتھ سے صفائی کا کام کرنا پڑا۔یکم اکتوبر تا6/اکتوبر <mark>1947ء</mark> بٹالہ کی ملٹری نے پاکستان کی حکومت کے بھیجوائے ہوئے لڑکوں کو یہ بہانہ رکھ کر <mark>قادیان</mark> جانے سے روک دیا کہ <mark>قادیان</mark> کی سڑک زیر مرمت ہے۔اور جب ہمارے ٹرک بٹالہ میں رُکے تو اس پر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھوں اور غیر مسلم ملٹری نے مل کر فائر کئے جس کے نتیجہ میں کئی آدمی زخمی ہوئے اور بعض لا پتہ ہیں اور ٹرک بھی جلا دیا گیا۔اس کنوائے میں میر الڑ کا مرزا منیر احمد بھی شامل تھا جو بٹالہ میں دو دن تک قیامت کا نمونہ دیکھنے کے <mark>بعد</mark> لاہور واپس پہنچا ( 17)۔رستہ کے زیر تعمیر ہونے کا عذر محض بہانہ تھا اور غرض یہ تھی کہ ان ایام میں بیرونی دنیا سے <mark>قادیان</mark> کا تعلق بالکل کاٹ کر <mark>قادیان</mark> کے احمدیوں کولوٹا اور ختم کیا جاسکے۔چنانچہ جیسا کہ <mark>بعد</mark> کے واقعات بتائیں گے <mark>قادیان</mark> پر بڑا حملہ انہی تاریخوں میں ہوا۔یکم اکتوبر <mark>1947ء</mark> حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا مکان بیت الحمد واقع محلہ دارالانوار <mark>قادیان</mark> جس میں حضور کے بعض بچے رہائش رکھتے تھے ہملٹری نے زبر دستی خالی کراکے اپنے قبضہ میں کرلیا۔2 /اکتوبر <mark>1947ء</mark> پولیس نے احمدیوں کی آٹا پیسنے کی چکیاں حکماً بند کرا دیں۔جس کے نتیجہ میں <mark>قادیان</mark> کے محصور شدہ ہزاروں احمدیوں کو ( جن میں بچے ، عورتیں اور بوڑھے شامل تھے ) کئی دن تک گندم کے دانے اُبال اُبال کر کھانے پڑے اور اس وجہ سے بیشمار لوگ پیچش کی مرض کا شکار ہو گئے۔