تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 113
تاریخ احمدیت بھارت 24 ستمبر 1947ء 97 جلد اول پولیس نے محلہ دارالشکر قادیان کے متعدد مکانات کی تلاشی لی اور گو کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔مگر ہزاروں روپے کے زیورات اور نقدی اور دیگر اشیاء اٹھا کر لے گئی اور پناہ گزینوں کی پانچ لڑکیاں بھی پکڑ کر ساتھ لے گئی جنہیں بعد میں واپس کر دیا گیا۔25 ستمبر 1947ء چار مسلمان پناہ گزینوں کو جو مکان آشیانہ مبارک محلہ دارالانوار میں پناہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے پولیس نے گولی کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا اور ان کی عورتوں کو پکڑ کر لے گئی۔اس کے علاوہ دو مزید آدمی لا پتہ ہو گئے اور بعض زخمی ہوئے۔یہ واقعہ 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب کو ہوا۔27 ستمبر 1947ء قادیان میں ٹھہرے ہوئے پناہ گزینوں کے علاوہ مقامی احمدیوں کے قریباً پانچ ہزار مویشی مالیتی قریباً 20 لاکھ روپیہ ) پولیس کی امداد کے ساتھ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے لوٹ لئے اور ان کے گڑے اور چھکڑے بھی لے گئے۔جس کی وجہ سے وہ آئندہ چلنے والے پیدل قافلہ میں اپنا سامان ساتھ رکھنے کے ناقابل ہو گئے۔پناہ گزینوں کے علاوہ مقامی احمدیوں کے متعدد مویشی بھی۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) حملہ آور لوٹ کر لے گئے۔27 ستمبر 1947 ء تا یکم اکتوبر 1947ء سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی بیت الظفر واقع محلہ دارالانوار قادیان کا تمام سامان (سوائے کچھ معمولی فرنیچر کے ) ملٹری نے لوٹ لیا اور یہ لوٹ برابر پانچ دن تک جاری رہی۔ملٹری کے ٹرک رات کو آتے تھے اور کوٹھی کا سامان سمیٹ سمیٹ کر لے جاتے تھے۔کوٹھی کے مویشی بھی لوٹ لئے گئے۔(15) 29 ستمبر 1947ء مولوی احمد خان صاحب نیم مولوی فاضل انچارج مقامی تبلیغ اور مولوی عبدالعزیز صاحب (بھامڑی) مولوی فاضل انچارج شعبہ خبر رسانی جماعت احمدیہ کو پولیس نے دفعہ 396و397 تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا۔اور معلوم ہوا ہے کہ انہیں پولیس کی حراست میں سخت تکلیف دی جاتی رہی ہے۔(16)