تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 110
جلداول 94 HE تاریخ احمدیت بھارت 6 ستمبر 1947ء قادیان کے جنوبی جانب مراد پورہ گاؤں کا ایک احمدی۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے شہید کر دیا اور بعض دوسرے احمدیوں کے اموال لوٹ لئے۔7 ستمبر 1947ء بٹالہ میں قادیان کے تین احمدی نوجوان جوڈ پٹی کمشنر گورداسپور کو ایک چٹھی پہنچانے کے لئے جا رہے تھے خا کی لباس پہنے کی وجہ سے گرفتار کر لئے گئے اور ان کے موٹر سائیکل چھین لئے گئے۔(6) 9 ستمبر 1947ء قادیان کے گرد و نواح میں جیپ گاڑیوں کی نقل وحرکت ممنوع قرار دے دی گئی اور چونکہ ہمارے پاس زیادہ تر جیپ گاڑیاں ہی تھیں اس لئے قادیان کے احمدیوں کی نقل وحرکت بالکل بند ہو گئی۔11-12 ستمبر 1947ء ماحول قادیان کے بہت سے دیہات خالی ہو کر قادیان پہنچ گئے جس سے بالآخر قادیان میں پناہ گزینوں کی تعداد 50 ہزار تک جا پہنچی اور قادیان کا ہر مکان اور ہر باغ ہر میدان اور ہر راستہ عملاً پناہ گزینوں کا کیمپ بن گیا۔(7) 12 ستمبر 1947ء قادیان میں متعینہ فوج نے باہر جانے والے پناہ گزینوں کی تلاشی شروع کر دی اور جلد بعد اس تلاشی کے دوران میں لائسینس والے اسلحہ کو بھی چھینا شروع کر دیا۔(8) 13 ستمبر 1947ء چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے۔ایم۔ایل۔اے ناظر مقامی تبلیغ کو بے بنیاد الزام پر دفعہ 302 تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا گیا۔(9) 14 ستمبر 1947ء سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ جماعت احمدیہ کو بے بنیاد الزام پر دفعہ 302 تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا گیا۔(10)