تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 90 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 90

جلد اوّل 74 تاریخ احمدیت بھارت اور صدقات پر بھی زور دیتے تھے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔میں جب قادیان سے آیا ہوں تو میں نے خیال کیا کہ جو لوگ وہاں بیٹھے ہیں ان کے لئے صدقہ دیتے رہنا چاہیئے۔چنانچہ جب تک آخری قافلہ نہیں آیا میں پچیس روپیہ روزانہ صدقہ دیتا تھا اور یہ ساڑھے سات سو ماہوار بنتا ہے۔جب قافلے آگئے اب سو روپے ماہوار صدقہ دیتا ہوں تا خدا تعالیٰ وہاں کے رہنے والوں کو محفوظ رکھے۔“ (20) قادیان اور اس کے گرد و نواح میں بربریت کی خود ساختہ وجہ تاریخ احمدیت کے مطالعہ کرنے والا طبقہ زیادہ تر ان نو جوانوں پر مشتمل ہے جسے تقسیم ملک کے حالات کا علم نہیں۔اور ان کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو ناقدرتی ہے کہ آخر اس بربریت و وحشت کی وجہ کیا تھی؟ اس سوال کے جواب کا اختصار یہ ہے کہ مورخہ 20 فروری 1947ء کو برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ جون 1948ء میں ملک کے اختیارات ہندوستانیوں کے سپر د کر دیں گے۔مگر حالات نے انہیں اتنا مجبور کر دیا کہ انہوں نے 15 اگست 1947ء کو ہی ہندوستان کی آزادی کا اعلان کر دیا۔مورخہ 3 رجون 1947ء کو مؤنٹ بیٹن سکیم کا اعلان ہندوستان کی تقسیم کے بارے میں ہو گیا۔10 جون 1947ء کو بنگال اور 23 جون 1947ء کو پنجاب کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چنانچہ پنجاب کے دو حصے ہو گئے ، مغربی حصہ پاکستان اور مشرقی حصہ ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔مشرقی حصے سے مسلمانوں کو زبر دستی ان کے گھروں سے نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ان کے گھر و جائیداد پر قبضے شروع ہو گئے ، ان کے مال زیورات لوٹ لئے گئے اکثر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔لڑکیوں وعورتوں کو اغوا کیا جانے لگا۔اتنی دہشت پیدا کر دی گئی کہ مسلمان سب کچھ چھوڑ کر پاکستان بھاگنے لگے۔اسی طرح مغربی حصے سے ہندؤں اور سکھوں کو مشرقی حصے کی طرف زبر دستی روانہ کیا جانے لگا۔قادیان میں افراد جماعت احمدیہ پر مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔انہیں مجبور کیا جانے لگا کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی طرح وہ بھی اپنے شہر ( قادیان) چھوڑ کر چلے جائیں۔جب کہ جماعت احمدیہ کا مؤقف یہ تھا کہ قادیان حضرت بانی جماعت احمدیہ کا مولد ہمسکن و مدفن ہے اس میں جماعت کے