تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 91 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 91

تاریخ احمدیت بھارت 75 جلد اول مقدس تاریخی مقامات ہیں۔حضرت بانی جماعت احمدیہ کے آباؤ اجداد نے تقریباً چار صدیاں قبل قادیان کی بنیاد رکھی، اسے آباد کیا اس زمانے میں یہ علاقہ جنگل و بیابان تھا۔کوئی انسانوں کی آبادی یہاں نہ تھی۔(اس وقت سے لے کر اب تک خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس میں مقیم اور رہائش پذیر ہے درمیان میں کچھ عرصہ کے لئے اس خاندان کے افراد کو بیگو وال جانا پڑا مگر ملکیتی حقوق اور آمد و رفت کا سلسلہ برقرار رہا۔بایں وجہ جماعت یہاں سے ہرگز نہیں جاسکتی اور اسے کسی صورت میں خالی نہیں کر سکتی۔نیز جماعت کی قادیان میں اکثریت ہے۔اسے کہیں اور منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔مگر اس وقت کی حکومت اس مؤقف کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھی۔ان کے بعض ذمہ داران نے دہشت گرد عناصر کو انخلاء قادیان کے لئے تیار کیا۔وہ احمدیوں کو بزور شمشیر ان کے آبائی گھروں سے نکالنے مال و اسباب لوٹنے اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے لئے گھات لگائے بیٹھے تھے۔جماعت سے بلاوجہ کا بغض وعناد ر کھنے والے گروہوں اور ابن الوقت اور منافقانہ خصلت رکھنے والوں نے حملہ آوروں کی راہنمائی اور خفیہ مدد کے لئے اپنی رضامندی کا اظہار کیا اور وہ اس میں پیش پیش تھے۔تا کہ مال و اسباب کی لوٹ مار میں ان کا بھی وافر حصہ ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے فسادات کے ایام میں احمدیوں کے ساتھ دوسروں کی نسبت امتیازی سلوک دو تاریخ احمدیت میں درج ہے کہ :۔ماہ اگست 1947ء میں قتل و غارت کا جو بازار گرم ہوا تھا وہ ماہ ستمبر میں انتہا کو پہنچ گیا۔لاکھوں مسلمان چھوٹے یا بڑے ڈیروں میں یا تو دہشت زدہ ہو کر سکڑے بیٹھے تھے یا سڑکوں پر پاکستان کا رُخ کئے جارہے تھے۔ظلم وستم کی حد یہ تھی کہ وہ ظالم حملہ آور جنہوں نے ان کے گاؤں جلائے۔ان کی عورتوں کو بے آبرو کیا اور بچے کھچے بدنصیبوں کو بھگا دیا ، اب بھی ان کا تعاقب کر کے ان کو رستے ہی میں تہ تیغ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔نہایت مستند واقعات کی روشنی میں ان حملوں کا ذکر ہے جو انبالہ، جالندھر، امرتسر ، فیروز پور اور جالندھر کے پیدل قافلوں پر کئے گئے اور جن میں بے شمار جانیں ضائع