تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 86 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 86

جلد اوّل 70 تاریخ احمدیت بھارت مثال بھی کسی اور جگہ نہیں مل سکتی تو اس کامیابی اور کامرانی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔(17) اپنے اسی مضمون میں خواجہ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ نے بیحد و حساب مشکلات اور رکاوٹوں کے دوران میں قادیان کے ہزاروں بچوں عورتوں اور مردوں کو قادیان سے نکالنے کا جو انتظام فرمایاوہ اتنا شاندار اور اس قدر کامیاب تھا کہ اس کی مثال سارے مشرقی پنجاب میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اس انتظام کی کامیابی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کی پابندی کرنے والے اور اس کے ماتحت قادیان سے آنے والے ہزار ہا نفوس میں سے خطرات اور خدشات سے پر طویل راستہ میں نہ تو کوئی ایک بھی تنفس ضائع ہوا اور نہ ظالم اور جفا کار۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ہاتھ پڑا۔حالانکہ راستہ تو الگ رہا خود قادیان میں ہندو فوج ، ہند و پولیس اور۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) لٹیروں اور قاتلوں کے جتھوں کی یہ حالت تھی کہ جس کو چاہتے بے دریغ اور بلا وجہ گولیوں کا نشانہ بنا دیتے۔جسے چاہتے بلا خوف و خطر لوٹ لیتے اور دن دہاڑے دیہاتی پناہ گزینوں کے مجمع میں گھس کر عورتوں کو اٹھالے جاتے اور مزاحمت کرنے والوں کو گولیوں یا کر پانوں سے موت کے گھاٹ اتار دیتے۔ان حالات میں کئی دنوں تک گھری ہوئی قادیان کی احمد یہ جماعت کی ہزاروں عورتوں، بچوں اور مردوں کو ایک بھی جان کے ضائع یا گم ہونے کے بغیر درندہ صفت دشمنوں کے پنجہ ستم سے نکال کر صحیح و سلامت منزل مقصود تک لے جانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔میں تو قادیان میں بیٹھا ہوا جوں جوں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس انتظام کو اور اس کی کامیابی کو دیکھتا اس کی مثال ڈھونڈھنے سے قاصر ہوتا جاتا۔میرے دماغ میں موت اور تباہی کے نہایت وسیع طوفان سے انسانوں کو بچا کر محفوظ مقام پر پہنچانے کی بڑی سے بڑی مثال ڈنکرک کے واقعہ کی آئی جبکہ گزشتہ جنگ عظیم کے دوران میں انگریزی اور ہندوستانی بہت بڑی سپاہ اس مقام پر جرمنی کی قہرمانی فوجوں کے گھیرے میں گھر گئی تھی اور انگریزوں نے اپنی تمام مساعی اس کو نکال کر لے جانے میں صرف کر دی تھیں۔آخر بہت بڑا جانی و مالی نقصان برداشت کر کے جس قدر جانوں کو بھی انگریز بچا کر لے جانے میں کامیاب ہوئے اسے بہت بڑا کارنامہ سمجھا گیا اور فی الواقعہ یہ بڑا شاندار کارنامہ ہی تھا۔لیکن میری نگاہ میں قادیان سے بچوں ،عورتوں اور آخر میں مردوں کو موت کے منہ سے نکال کر لے جانے کا واقعہ اس سے بھی بڑھ کر شاندار اور اہم ہے کسی