تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 83 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 83

تاریخ احمدیت بھارت 67 جلد اول سے ایک ایک بستر اور ایک ایک ٹرنک کھول کر دیکھا جاتا اور چھان بین کی جاتی کہ کوئی کام کی چیز باقی نہ رہ جاتی اور اس میں اتنی سرگرم اور انہماک کا اظہار کیا جاتا کہ کئی بار تھوڑے تھوڑے لڑکوں کو محض اس لئے رات بھر وہیں رکنا پڑا کہ ان کی تلاشی ختم نہ ہوسکی۔اس طرح عورتوں اور بچوں کو نہ صرف ساری رات کھلے میدان میں خوف وخطر کے اندر پڑے رہنا پڑا بلکہ کھانے پینے اور حوائج ضرور یہ پورا کرنے میں بھی انتہائی تکلیف اٹھانی پڑتی۔عورتیں اور بچے صبح کے 5،4 بجے ٹرکوں پر سوار ہونے کے لئے گھروں سے نکل کر مقررہ جگہوں پر جمع ہونے شروع ہو جاتے اور پناہ گزینوں کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے بڑی مشکلوں سے منتظمین جن میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے صاحبزادگان ہوتے سوار کر اسکتے۔ابتدائی ایام میں دھوپ میں کافی حدت تھی۔جب عورتیں بچے لڑکوں میں کھچا کھچ بھر جاتے تو پھر ٹرک ملٹری کے احکام کی انتظار میں دھوپ میں کھڑے رہتے۔آخر خدا خدا کر کے چلتے تو تلاشی کی خاطر ریلوے لائن کے قریب کھلے میدان میں ان کو روک دیا جاتا۔پھر اس بری طرح ایک ایک چیز کو کھولا اور بکھیر ا جاتا کہ باقی بچی کچھی اشیاء کا سمیٹنا بھی سخت مشکل ہو جاتا۔خاص کر اس لئے کہ عام طور پر صرف مستورات اور بچے جا رہے ہوتے مرد ان کے ساتھ نہ ہوتے۔اس طرح اس قدر دیر ہو جاتی کہ قافلہ روانہ نہ ہوسکتا اور اسی جگہ عورتوں اور بچوں کو ایسی حالت میں رات گزارنی پڑتی جبکہ ایک طرف غنڈے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) اور ملٹری و پولیس سے شدید خطرہ میں گھرے ہوتے اور دوسری طرف بھوک پیاس اور دن بھر کی کوفت سے نڈھال ہو رہے ہوتے اس قسم کے دو قافلے مجھے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔ہمارے نوجوانوں نے ان گرفتاران مصیبت کو کھانا اور پانی پہنچانے کی پوری کوشش کی اور خدا تعالیٰ نے خاص فضل یہ کیا کہ ان دونوں قافلوں کے ساتھ مسلمان ملٹری جن میں ہمارے احمدی نوجوان بھی شامل تھے کافی تعداد میں کافی اسلحہ کے ساتھ موجود تھی اور اس نے حفاظت کا پورا پورا حق ادا کیا۔آخری قافلہ جس میں ہزاروں عورتیں اور بچے شامل تھے بہت بڑا قافلہ تھا اور انچارج ایک نہایت فرض شناس انگریز افسر تھا۔اس کے قافلہ کے دس ٹرک غیر مسلم پناہ گزینوں کو گورداسپور لے کر گئے تھے اور ان کو حکم تھا کہ گورداسپور سے خالی ٹرک لے کر بڑے کنوائے کے ساتھ قادیان آملیں تا کہ ان پر بھی قادیان سے عورتوں اور بچوں کو سوار کرایا جائے۔لیکن جب ٹرک وقت