تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 59 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 59

جلد اوّل 54 تاریخ احمدیت بھارت آٹھ دس دن تک کوئی جواب نہ آیا۔اور جواب آیا بھی تو یہ کہ حکومت کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے انکار کرتی ہے۔اس لئے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی۔میں اس وقت حضرت مسیح موعود کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا۔الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا ” بعد گیارہ میں نے خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ تاریخ ہے اور میں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام قمری گیارہ تاریخ کے بعد ہوگا۔مگر انتظار کرتے کرتے عیسوی ماہ کی 28 تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہوسکا۔28 تاریخ کو اعلان ہو گیا کہ 31 اگست کے بعد ہر ایک حکومت اپنے اپنے علاقہ کی حفاظت کی خود ذمہ دار ہوگی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈین یونین اب مکمل طور پر قادیان پر قابض ہو گئی ہے۔میں نے اس وقت خیال کیا کہ اگر مجھے جانا ہے تو اس کے لئے فوراً کوشش کرنی چاہیئے ورنہ قادیان سے نکلنا محال ہو جائے گا اور اس کام میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔ان لوگوں کے مخالفانہ ارادوں کا اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ انگریز کرنل جو بٹالہ لگا ہوا تھا میرے پاس آیا اور اس نے کہا مجھے ان لوگوں کے منصوبوں کا علم ہے۔جو کچھ یہ 31 اگست کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کریں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ باتیں کرتے وقت اس پر رقت طاری ہوگئی۔لیکن اس نے جذبات کود بالیا اور منہ ایک طرف پھیر لیا۔جب میں نے دیکھا کہ گاڑی وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہوسکتا اور میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے الہام بعد گیارہ سے کیا مراد ہے تو مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا پیغام ملا کہ میجر جنرل نذیر احمد صاحب کے بھائی میجر بشیر احمد صاحب ملنے کے لئے آئے ہیں۔دراصل یہ ان کی غلطی تھی وہ میجر بشیر احمد صاحب نہیں تھے بلکہ ان کے دوسرے بھائی کیپٹن عطاء اللہ صاحب تھے۔جب وہ ملاقات کے لئے آئے تو میں حیران تھا کہ یہ تو میجر بشیر احمد نہیں ان کے چہرے پر تو چیچک کے داغ ہیں۔مگر چونکہ مجھے ان کا نام میجر بشیر احمد ہی بتایا گیا تھا اس لئے میں نے دوران گفتگو میں جب انہیں میجر کہا تو انہوں نے کہا میں میجر نہیں ہوں کیپٹن ہوں اور میرا نام بشیر احمد نہیں بلکہ عطاء اللہ ہے۔کیپٹن عطاء اللہ صاحب کے متعلق پہلے سے میرا یہ خیال تھا کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے زیادہ مخلص ہیں۔اور میں سمجھتا تھا کہ اگر خدمت کا موقعہ مل سکتا ہے تو اپنے بھائیوں میں سے یہی اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔میں نے انہیں حالات بتائے اور کہا کہ کیا وہ سواری اور حفاظت کا کوئی انتظام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں آج ہی واپس جا کر کوشش کرتا ہوں۔ایک جیپ میجر جنرل نذیر احمد کو ملی ہوئی ہے۔اگر وہ مل سکی