تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 47 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 47

جلد اول 44 تاریخ احمدیت بھارت انسانوں کو چیر پھاڑ رہے تھے۔مشرقی پنجاب کو مسلمانوں سے خالی کروانے کے لئے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) مفادات پرست اور مفسدہ پرداز عناصر کی تیاریاں مئی 1947 ء میں ہی مکمل ہو چکی تھیں۔ان عناصر کے عزائم اور ارادوں کے بارے میں ایک کتاب۔۔۔۔جو سول ملٹری گزٹ لمیٹیڈ لا ہور نے شائع کی اسکے صفحہ 16 میں تحریر ہے کہ :۔مہینے کے آخر میں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی تیاریاں موگا ، مالوہ اور دوآبہ میں مکمل ہو گئیں۔ماجھا ابھی تیار نہ تھا لیکن علاقہ تھانہ سرہالی ، ترمنتارن بیاس اور ویرووال کے باشندوں کو مسلح کرنے کی طرف توجہ کی گئی۔قادیان کے آس پاس رہنے والے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بالکل تیار ہو چکے تھے لیکن تحصیل بٹالہ میں ان کی تیاری اب تک پوری نہ ہوئی تھی۔(1) جیسا کہ مذکورہ کتاب کے اقتباس میں ذکر ہے کہ مئی 1947ء میں قادیان کے آس پاس رہنے والے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بالکل تیار ہو چکے تھے۔افسوس اس بات کا ہے کہ 1947ء میں جماعت احمدیہ کی تاسیس پر قریباً (58) سال گزر چکے تھے۔اس جماعت کی اٹھاون سالہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ایک امن پسند جماعت ہے۔اس جماعت کا ہر فرد بیعت کرتے وقت یہ عہد کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔ہر ایک فسق و فجور اور ظلم و خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا“۔ایسی بے ضرر جماعت کے بارے میں کوئی صاحب بصیرت سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ کسی کو ضرر یا نقصان پہنچائے گی۔مگر صد افسوس یہ جماعت بھی شر پسند عناصر کے خونی حملوں سے محفوظ نہ رہ سکی۔قادیان کی ریل گاڑی پر شر پسندوں کا حملہ آزادی سے قریباً 19 سال قبل مورخہ 19 دسمبر 1928ء کو بٹالہ سے قادیان ریل چلنا شروع ہوئی تھی۔یہ ریل بٹالہ سے قادیان آتے وقت راستے میں وڈ الہ گرنتھیاں ریلوے اسٹیشن پر رکتی تھی اور اب بھی رکتی ہے۔اس ریل کے اکثر مسافر احمدی مرد، عورتیں ، اور بچے ہوا کرتے تھے۔اس ریل میں انیس سال تک مسافر بڑے امن و امان اور آرام سے سفر کرتے رہے۔مگر شر پسند عناصر کو امن و امان کا ماحول پسند نہ