تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 46
تاریخ احمدیت بھارت 43 جلد اول باب سوم پنجاب میں خون ریز فسادات کا آغاز ، شر پسندوں کے حملے، حضرت مصلح موعودؓ کی ہجرت اور قادیان کی احمدی آبادی کا لا ہور منتقل ہونا دوراندیش ہندوستانیوں نے 1947ء کے شروع میں ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ انگریز حکمران ذہنی طور پر ہندوستان کی حکمرانی سے دستبردار ہو چکے ہیں۔جولائی 1947ء میں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے انڈیپنڈنس آف انڈیا ایکٹ پاس کر دیا۔اس طرح ہندوستان میں اقتدار اور حکومت منتقل کرنے کی کاروائی کا آغاز ہو چکا تھا۔بایں وجہ انگریز ارباب حکومت کی توجہ ملک کے امن و امان کی طرف نہ کے برابر تھی۔آئندہ معرض وجود میں آنے والی حکومت کے خد و خال واضح نہ تھے۔غیر یقینی کی کیفیت نے حالات کو حد درجہ تشویشناک بنا دیا تھا۔احمد آباد، بمبئی، کلکتہ وغیرہ علاقوں میں خون ریز فسادات شعلوں کی طرح بھڑک اُٹھے تھے جو خشک موسم میں سوکھے ہوئے جنگل میں لگی آگ کی طرح ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر خاکستر کر دینے کے درپے تھے۔خونی تصادم فرقہ وارانہ تشدد کی چنگاریاں متحدہ پنجاب کے کئی شہروں تک پہنچ چکی تھیں۔لاہور، امرتسر، ملتان، گوجرانوالہ اور گوڑ گاؤں مذہبی منافرت کے آتش فشاں کی لپیٹ میں آگئے تھے۔ہر مذہب کے مفاد پرست عناصر مبہم صورتحال سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے۔متحدہ مشرقی پنجاب کے بعض۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) مفادات پرست عناصر کی یہ کوششیں تھیں کہ مشرقی پنجاب سے مسلمان آبادی کو پاکستان جانے پر مجبور کر دیا جائے۔اور مغربی پنجاب میں مسلمان مفاد پرست اس تاک میں تھے کہ یہاں کے ہندو سکھ کب ملک چھوڑ کر جائیں اور ہم ان کی جائیداد و املاک پر قابض ہو جائیں۔اس حرص اور لالچ نے انسان سے صفت انسانیت کو چھین لیا تھا۔شر پسند عناصر حیوان اور درندوں کی طرح