تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 384 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 384

تاریخ احمدیت بھارت 353 جلد اوّل سے شام تک وقار عمل کرتے اور راستے کو وسیع کرتے جاتے تھے تاکہ راہ گیروں کو تکلیف نہ ہو۔یہ راستہ بھی درویشوں کی قربانیوں کی ایک تصویر ہے۔ہجرت کے بعد قادیان میں پہلا جلسہ سالانہ 1947ء حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں مؤرخہ 27 دسمبر 1891ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا تھا۔جس میں 75 خوش نصیب احباب شریک ہوئے تھے۔اس پہلے اور تاریخی جلسے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ اشتہار اعلان فرمایا تھا کہ آئندہ ہر سال 29،28،27 روہیمبر کو جلسہ سالانہ منعقد ہوا کرے گا۔چنانچہ اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفہ اسیح الاول ، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے عہد مبارک میں چند سالوں کو چھوڑ کر ہر سال جلسہ سالا نہ اپنی روحانی اور دینی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوتا رہا۔جلسہ سالانہ ایک لحاظ سے جماعت احمدیہ کی ترقی کا بھی غماز ہے جو ہر سال اپنی آغوش میں بے شمار ترقیات لئے ہوئے منعقد ہوتا ہے تقسیم ملک سے قبل متحدہ ہندوستان کا آخری جلسہ سالانہ 27،26، 28 دسمبر 1946ء کو تعلیم الاسلام کالج کے میدان میں منعقد ہوا تھا۔جس میں 39700 / انتالیس ہزار سات صد افراد شامل ہوئے تھے۔حضرت مصلح موعود کے عہد خلافت کا یہ آخری جلسہ سالا نہ تھا جو قادیان میں آپ کی موجودگی میں منعقد ہوا تھا۔کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔چنانچہ جلسہ سالانہ کی تاریخ نے اپنے آپ کو کچھ اس طرح دہرایا کہ تقریباً 56 سال کے بعد پہلے جلسہ سالانہ کی طرح مورخہ 26، 27، 28 دسمبر 1947ء کا جلسہ سالانہ ایک بار پھر مسجد اقصیٰ قادیان میں منعقد ہوا۔اس جلسے کے انعقاد کے لئے مسجد اقصیٰ کے برآمدے میں شمالی جانب سٹیج بنایا گیا جس کا رخ جنوب کی طرف تھا۔سٹیج پر حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب ابن حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب تشریف فرما تھے۔جلسے کی تقاریر کا پروگرام حضرت صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب ناظر دعوت وتبلیغ نے مرتب فرمایا تھا۔